BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 April, 2005, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انسانی تہذیب کے منہ پر تازیانہ

غیرت کے نام پر قتل
غیرت کے نام پر قتل نہ فقط ایک خونی سپورٹس بلکہ کاروبار بنا ہوا ہے
یہ جو آپ نے شیشوں کی جڑی پر رنگین کشیدہ کاری کی ہوئی خوبصورت سندھی ٹوپیاں دیکھی ہیں یہ یا تو سکھر جیل میں بنتی ہیں یا پھر کندھ کوٹ میں لیکن ان لشکارے مارتی سندھی ٹوپیوں کے، جسے میرے ایک دوست سیف بنوی ’ہر لحاظ سے بلوچی ٹوپی‘ کہتے ہیں بہت سی بنانے والیاں اور بنانے والے یا تو’ کارو کاری‘ کی قاتل رسم کی بھینٹ چڑھ گئے یا پھر قبائلی خونریزیوں کے۔

کندھ کوٹ کے ان میں سے بہت سے لوگوں پر فیض احمد فیض کا مصرعہ صاد‌ق آتا ہے:
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

اسی کندھ کوٹ میں اب ہم جنس تعلقات کی بنا پر ایک باپ نے’غیرت کے نام پر‘ اپنے نوجوان بیٹے کو قتل کر دیا۔ گزشتہ ہفتے سب سے پہلے میں نے یہ خبر ایک سندھی روزنامے کے انٹرنیٹ ایڈیشن پر دیکھی اور پھر خبر دینے والے متعلقہ نمائندے اور کافی مقامی شہریوں کو کندھ کوٹ ٹیلیفون کر کےاس خبر کی تصدیق کی اور مزید تفصیلات جاننا چاہی۔

کندھ کوٹ سندھ اور باقی پاکستان کے دیگر علاقوں میں سے ایک ہے جہاں غیرت کے نام پر قتل نہ فقط ایک خونی سپورٹس بلکہ کاروبار بنے ہوئے ہیں جس کا سب سے زیادہ شکار عورتیں ہوتی ہیں۔

بلوچستان کی سرحد پر واقع سندھ کے اس شہر کندھ کوٹ میں سخت قبائلی و سرداری نظام بہت سے معاملات میں اپنی تمام شدومد کے ساتھ نافذ العمل ہے۔ میرا دوست مظہر لغاری ایسے نظام کو '‏غیرت کے نام پر قتل' کی سیاسی اقتصادیات کہتا ہے۔

بلوچستان کی سرحد پر رسالدار پولیس کی حدود میں باپ نے اپنے بیٹے اختر کھوسو سے ہم جنس تعلقات استوار رکھنے پر ایک شخص صدر گبول کو ’ کارو‘ قرار دیا۔ سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے صوبے میں جرگوں پر بندش کے باوجود مقامی با اثر اشخاص کی سرپنچی میں جرگہ بلایا گیا جہاں کارو قرار دیے جانے والے صدر گبول نے خادم حسین کھوسو کے مقتول بیٹے اختر کے ساتھ دوستی اور ہم جنس تعلقات کا ’بقول مقامی شہریوں اور صحافیوں کے‘ اقرار کیا اور پھراس پر ایک لاکھ اسی ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔

اگرچہ کندھ کوٹ کے مقامی صحافی ہم جنس تعلقات کی بنا پر قتل کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی تاریخ کا پہلا قتل قرار دیتے ہیں لیکن میرے علم میں ہم جنس تعلقات کی بنا پر قتل کے واقعے کا یہ سندھ میں ماضی قریب میں تیسرا کیس ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں ہم جنس لوگوں کے ’غیرت کے نام پر‘ قتل نہیں ہوتے۔ بس یہ کہ بہت سے کیس رپورٹ نہیں ہوتے۔ اور رپورٹ نہ ہونے والوں کیسوں میں وہ بھی ہیں جن میں بالائی سندھ کی اقلیت اور کمزور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے خوش شکل نوجوانوں کو دوستی نہ رکھنے یا رکھنے پر قتل کیا جاتا ہے۔

کندھ کوٹ سے پہلے کچھ عرصہ قبل میہڑ کے قریب ایک شخص نے اپنے بھائی کو کسی شخص کے ساتھ ہم جنس تعلقات رکھنے پر قتل کردیا اور اسی طرح کا ایک اور واقعہ سکھرمیں ہوا جہاں بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو بگٹی نوجوانوں کو آپس میں تعلقات رکھنے پر’ کارو‘ قرار دیکر ایک کو قتل کیا گیا اور پھر جرگے میں دوسرے شخص کی جان بخشی بھاری جرمانے ادا کرنے کی صورت میں کی گئی۔

ایسے معاملات میں فوج اور قبائلی سردار ایک دوسرے کے بغیر دخل در معمولات کے بقول شخصے’ جرگوں کا جھان‘ جاری و ساری رکھے آ رہے ہیں۔

’غیرت کے نام پر قتل‘ چاہے ہم جنس تعلقات کے بنیاد پر ہوں یا جنس مخالف سے تعلقات کی بنیاد یا بہانہ بنا کر ’انسانی تہذیب کے منہ پر تازیانہ ہے‘۔

کندھ کوٹ جہاں عورتوں کا ’غیرت کے نام پر قتل‘ تو بات بات پر کیا جاتا ہے وہاں کے مقامی لوگ مرد کے مرد کے ساتھ ’ کارو‘ قرار دیے جانے کے واقعے کو تو کندھ کوٹ کی زندگی کا معمول تصور کر رہے ہیں لیکن جو بات انہیں ذرا حیران کن لگی ہے وہ یہ ہے کہ اب وہاں لوگوں نے اپنے جانوروں کو بھی ’ کارو کاری‘ کے نام پر ہلاک کر دینا شروع کردیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ نوے فی صد سے بھی زیادہ کاروکاری کے واقعات میں ’ناجائز تعلقات‘ کا جھوٹا بہانہ بنایا جاتا ہے جس کی وجوہات ذاتی دشمنی، پیسے بٹورنا، عورت سے جان چھڑوانا، پرائی عورت اپنے قبضے میں کرنا یا اپنی عورت کے ساتھ ذاتی عداوت ہوتی ہیں۔

گزشتہ برس پاکستان میں ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے واقعات کوئی چار ہزار کے قریب تھے جن کا شکار ہونیوالوں میں عورتیں زیادہ تھیں اور ان میں بھی زیادہ تعداد سندھ اور پھر کندھ کوٹ اور جیکب آباد کے اضلاع کے دیگر علاقوں سے تھی۔ صرف کندھ کوٹ میں ہر ماہ عزت کے نام پر قتل ہونیوالے افراد میں بھاری اکثریت عورتوں کی ہے۔

قبائلی سرداروں اور ان کے مقدم اور مقامی تھانوں کے ایس۔ایچ۔او، ٹی پی او اور ڈی پی او تک کے لیے کندھ کوٹ اور جیکب آباد جیسے علاقے ’سونے کی کان‘ بنے ہوئے ہیں۔

یہاں ’غیرت کے نام پر‘ عورت کے مرد کے ساتھ تعلقات اور اب مرد کے مرد کے ساتھ تعلقات کی بناء اور بہانے پر قتل سے، تھانے پر سے بھی پہلے ’بری‘ ہونے کے نرخ مقرر ہیں جو ہر قبیلے اور ذات کیلیے الگ الگ ہیں۔

’غیرت کے نام پر قتل‘ والے کو تو پولیس کسی بہت ہی معمولی کیس میں یا پھر ’فوری اشتعال اور غیرت‘ میں آ کر کر دینے والی کاروائی قرار دے دیتی ہے اور ایسے کیسوں کیلیے جج اور استغاثہ بھی بوجہ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

ایسے علاقوں میں ایس ایچ او اور ديگر پولیس افسر بڑی سفارشیں کروا کے اور رشوتیں دیکر تعیناتی کرواتے اور اپنے تبادلے رکوایا کرتے ہیں۔

وہ مذہبی سیاسی جماعتیں جن کے قائد ’ کارو کاری‘ کی رسم کو صریحاً غیر اسلامی قرار دیتے رہے تھے انکے مرد اور خواتین ارکان نے بھی قومی اسمبلی میں حکومتی بینچوں کی کشمالہ طارق کے لائے ہوئے بل کیخلاف ووٹ دیے اور اب یہ مذہبی سیاسی رہنما بھی اس بل کو ’‏غیر اسلامی‘ کہتے ہیں۔

یہانتک کہ بہت سے پڑھے لکھے اور متوسط طبقے کے لوگ بھی سندھ یا پاکستان میں ’ کارو کاری‘ کی قاتل رسم کی حمایت کرتے ہیں اور وہ اپنی دلیل میں برطانوی شہزادی ليڈی ڈیانا کی مصری نژاد ڈوڈی الفائد کے ساتھ کار حادثے میں موت کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ ہی قرار دیتے ہیں۔

مجھے ان قبائلی سرداروں اور وڈیروں پر پر کوئی حیرت نہیں ہوتی جنہیں لوگ بہت ہی پڑھا لکھا کہتے ہیں۔ انکا پڑھا لکھا ایسا ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی آدم خور قبیلے کے چشم و چرا‏غ پڑھنے کیلیے آکسفورڈ جائيں اور وہاں سے فارغ التحصیل ہوکر وطن واپسی پر ان پر انکی آکسفورڈ کی تعلیم کا صرف اتنا اثر ہو کہ اب وہ انسانوں کو ہاتھوں کے بجائے چھری اور کانٹے سے کھانے لگیں۔

شکارپور میں مہر اور جتوئی قبائل کے انتہائی خونریز جنگوں نما قبائلی تصادم میں اغوا کی جانیوالی عورتوں کو واپس کروانے پر مبینہ طور ان کے اپنے اپنے مردوں نے اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ بعض دفعہ سندھ میں زیادتی کا نشانہ بننے والی بچیوں اور بچوں کے مجرموں کو قانون کے ہاتھوں اپنے کیفر کردار تک پہنچوانے کے بجائے اپنے ہی مظلوم و معصوم بچوں اور بچیوں کو ‏برائے غیرت قتل کیا جاتا رہا ہے۔
سکھر میں انسانی حقوق اور عوامی دلچسپی والے مقدمات کے وکیل شبیر شر نے پنوں عاقل میں ایک قبائلی جرگے میں ایک جوڑے کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی دی جانیوالی غیر قانونی سزا کے خلاف جب سندھ ہائي کورٹ میں آئینی درخواست داخل کی تو اس پر جسٹس رحمت حسین جعفری نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام سندھ میں جرگوں پر مکمل پابندی اور پولیس کو اس پر عمل کروانے کا حکم دیا-

کچھ دن تو سندھ کے قبائلی سرداروں نے اپنے جرگے بلانا یا تو بند کردیے یا پھر سندھ کی حدود میں نہیں تو بلوچستان میں منعقد کرنے لگے۔ سابق وزیرِاعظم ظفراللہ جمالی کے آخری دنوں میں مشہور جوڑے شائستہ عالمانی اور مہر کے خلاف جرگہ وزیرِا‏عظم جمالی کے گاؤں ڈیرہ مراد جمالی میں ان کے بھائی کی ’اوطاق‘ پر بلایا گیا تھا جس میں سندھ کے بہت سے سرداروں اور سینکڑوں مسلح قبائلیوں نے شرکت کی تھی۔

66پاک ہند کا وٹہ سٹہ
اصل دشمن انتہاپسندی ہے۔ حسن مجتبیٰ کا کالم
66امن، اجرک اورامریکہ
پیٹ کاٹ کر F-16 کی دوڑ، حسن مجتبیٰ کا کالم
66جمہوریت کا میزائل
گائیڈڈ ڈیموکریسی پر حسن مجتبیٰ کا کالم
66دسواں ستارہ بی بی سی
بی بی سی اور پاکستانی سیاست: حسن مجتبیٰ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد