’سندھی اجرک ایف سولہ کے برابر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ سنہ انیس سو اسی کی دہائی کی بات ہے جب ایف سولہ طیارے اور انکی بقیہ ترسیل پر پابندی کی خبریں گردش میں تھیں اور کراچی میں تب امریکی قونصل جنرل ٹنڈو محمد خان کے قریب اجرک بنانے کےمرکز کے دورے پر آئے تھے۔ اجرک کے کاریگروں نے امریکی قونصل جنرل کو بتایا اور دکھایا تھا کہ کس طرح اجرک اپنی تیاری کے سولہ مرحلوں سے گزر کر بنتا ہے، جس پر امریکی قونصل جنرل نے اجرک کے کاریگروں سے کہا تھا کہ حیرت ہے ایف سولہ طیارہ بھی اتنے ہی مرحلوں سے گزر کر بنتا ہے اور پھر انہوں نے ازراہِ مذاق کہا تھا ’سندھ کا اجرک ایف سولہ طیارے کے برابر ہے۔‘ یہ بات مجھے تب یاد آئی جب اب امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی ترسیل کی بقیہ اقساط پر عائد پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ پاکستان کے ارباب اختیار خوشی سے اپنے کپڑوں میں پھولے نہیں سماتے۔ گویا کہ کسی بچے کو اپنا پسندیدہ کھلونا مل گیا ہو۔ جیسے انشا جی نے کہا تھا: ’انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند‘ مگر یہ جو وکھری ٹائپ کے کھلونے ہیں ان سے برصغیر میں ماؤں کی گودوں اور جھولوں میں جھولنے والے چاندوں کے عکس ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا کھٹکا تو رہےگا ہی۔ ادھر دوسرے بچے کو بھی ایف اٹھارہ والے کھلونے پر راضی کر لیا گیا ہے۔ ایف سولہ ہوں کہ ایف اٹھارہ ان کی پرواز و آواز ہند و پاک میں اندیشہ ہائے نقصِ امن کا موجب تو بنی ہی رہےگی۔ مجھے اپنے ساتھی صحافی عدنان عادل کی حال ہی میں اسی ویب سائٹ پر بلوچستان پر سلسلے وار رپورٹوں میں سے ایک رپورٹ یاد آتی ہے جس میں عدنان نے کسی فوجی ذریعے سے اپنی گفتگو کے حوالے سے بتایا تھا کہ بلوچ باغیوں کی پہاڑوں میں ناقابل رسائی کمیں گاہوں کو وہ ایف سولہ طیاروں سے تباہ کرسکتے ہیں۔ بلوچ باغیوں اور ریاستی ایجینسیوں کے بیچ یہ ریت کی بوری بنے ہوئےعام بلوچ گڈریے، شہری اور ڈیرہ بگٹی کے ہندو بچے، مرد اور عورتیں۔ وہی ایک حبیب جالب نے کہا تھا، کاش اس زمانے کا ضمیر ڈیرہ بگٹی میں ہندوؤں اور بلوچوں کے خلاف اس کارروائی کی امیچیور وڈیو دیکھ سکتا جو پچھلے دنوں سندھی سیٹلائیٹ چینل کے ٹی این سے نشر کی گئی تھی۔ سندھی میں یہ بھی کہاوت ہے کہ ’شیر شاہ کے باز اپنے ہی گھر کےمرغےمارا کرتے ہیں‘۔ مئی دو ہزار ایک میں مشرقی تیمور کے نوبل امن انعام یافتہ رہنما راموس ہوزے ہورتا واشنگٹن میں سندھیوں کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب میں بتا رہے تھے کہ تب پاکستان کو رکے ہوئے ایف سولہ صدر کلنٹن نے انڈونیشیا کو بیچنے کی آفر کی تھی لیکن سوہارتو کی فوجوں کی مشرقی تیمور میں کاروائیوں کی وجہ سے ایسی آفر واپس لے لی گئی تھی۔ ابھی برصغیر میں امن کا سماں بمشکل بندھا ہی چاہتا ہے کہ پھر یہ ہتھیار و گولہ بارود و جنگی طیاروں کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ ’ہوا چلی بھی نہیں اور بکھر گئے ہم تم‘۔ ابھی میں بھی خوش ہوا تھا کہ صدرِ پاکستان کی والدہ زہرہ مشرف اپنے آبائی ہندوستان میں نہر والی حویلی اور دوسرے مقامات دیکھنے گئی تھیں۔ ایک ایسے کمانڈو کی والدہ جس نے بقول شخصے ’اپنی آدھی زندگی ہندوستان سے لڑتے گزاری ہے‘ کبھی ارونا آصف علی سے بھی ملی تھیں اور انکا رشتہ اس تاریخ ساز فرنگي محل محلے سے ہے جہاں اٹھارہ سو ستاون میں جنگ آزادی کے دوران انگریز سپاہیوں نے قیامتیں برپا کر دی تھیں۔ راج گھاٹ پر گاندھی کی سمادھی پر نرملا دیش پانڈے کے ساتھ اداکارہ میرا کے پھول چڑھانا اس برصغیر کا ردو کد ہے جو ہم کل تک کراچی، لاھوراور دھلی کےاردو اور ہندی کے بڑے بڑے اخبارات میں پڑھتے رہے تھے اور ایسے برصغیر میں چلنے والی ان نئی رتوں کو جنگی طیاروں اور توپوں کی ہرگز ضرورت نہیں بلکہ سکھ اور شانتی کے سواگت کیلیے اگلا مرحلہ ہتھیاروں میں تخفیف کا ہونا چاہیے نہ کہ اپنے لوگوں کا پیٹ کاٹ کر ایف سولہ یا ایف اٹھارہ کی دوڑ لگا دینے کا۔ دونوں ملکوں کی ایٹمی طاقت کی حیثیت بڑی طاقتوں نے مان لی ہے، جیسی بیکار کی باتیں اب بند ہونی چاہیئیں۔ اور یہ بھی کہ زہرہ مشرف لکھنو کے اس ’ازابیلا تھوبرن کالج‘ میں پڑھی ہیں جہاں قرت العین حیدر بھی پڑھی تھیں۔ کاش ایسی ماں اپنے بیٹے سے کہہ سکتی کہ’بیٹا! سول اقتدار پر قبضہ کرنا اور سیاست اچھے سپاہی کا شیوہ نہیں ہوتا۔‘ ویسے ’اچھا سپاہی‘ تو یہ میرا واقف کار فرانسس بھی خود کو نہیں سمجھتا جو آخری بار جنگی جہاز جوڑنے کے کارخانے سے چھانٹی ہوا تھا۔ فرانسس ویتنام کی جنگ کے دوران فوج میں بھرتی ہو کر گیا تھا لیکن غلط آزمائشی ہتھیار چلانے پر بقول اس کے کورٹ مارشل ہو کر چھ مہینے کی قید کاٹ بیٹھا۔ جب اسیری سے چھٹا تو بدلا ھوا زمانہ تھا۔- فرانسس ھپی بنا اور پھر گینگ ممبراور اب گرجا۔ ویتنام کی جنگ کے دنوں پر فرانسس کہتا ہے اس کے بچے تجسس سےاس سے پوچھتے ہیں’وہ تو بڑے بھرپور دن ہوں گے؟‘۔ فرانسس اپنے بچوں کو بتاتا ہے کہ ’ کیا خاک بھرپور دن ہوں گے۔ جب آپ سترہ سال کے ہوں، جنگ پر اور پھر جیل بھیج دیے جائيں۔‘ یہ اپنے نیٹوامریکی ترکے پر جا بجا فخر کرنے والے کولہوں سے بھی نیچے تک سر کے بالوں کو ایک چٹیا کی صورت باندھے اور اپنے پرکھوں سے ملی ہوا چاندی اور پتھروں کا گلوبند اپنی گردن میں پہنے ہوئے فرانسس سے میں نے پوچھا کہ اس نے اتنی نیٹوامریکی کہانیاں اور قدیم چیروکی زبان کہاں سے سیکھی تو اس نے کہا ’اپنے دادا اور دادی سے‘۔ گلی میں پارک ہوتے ہوئے ٹرک سے لے کر اپنے بچوں، بچیوں اور کتے بلی ہر چیز کو بات بات پر انگریزی میں موٹی موٹی گالیاں دینے والے فرانسس سے میں نے پوچھا کہ اس نے روانی سے ہسپانوی زبان بولنا کہاں سے سیکھی تو اس نے کہا: ’ ٹیکساس سے وہاں تو پاکستانی بھی ہسپانوی بولتے ہیں‘۔ اب اپنے ایک بازو پر مصلوب ہوتے ہوئے مسیح کی شبیہ کا ٹیٹو اور دوسرے بازو پر اپنی گینگ والے دنوں کے نشان لیے ہوئے فرانسس نے کہا ’ مین ! گینگ اور جنگ دونوں بہت بری چیزیں ہوتی ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||