عورت کی امامت برداشت نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اب بھی ایسے شہر اور گاؤں ہیں جہاں کی مسجدوں میں جمعے کے خطبے میں ترکی کے خلیفہ کی درازی عمر کی دعائیں مانگی جاتی ہیں جبکہ اسے فوت ہوئے بھی ایک صدی سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ ایسا خطبہ دینے اور سننے والے جو اس دعائیہ شاعری میں ترمیم یا اسے 'اپ ٹو ڈیٹ' کرنے کی بات سننے کیلیے بھی تیار نہیں، وہ عورت کی امامت میں نماز کی بات بھلا کیسے ہضم کرسکتے ہیں! عورت کے پاؤں تلے جنت ہے جیسی تعلیمات کا مقام اپنی جگہ جن کی صدا اس معاشرے میں بلند ہوئی جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا لیکن اب بھی رواں دواں وہ زمانہ جاہلیت ان ڈاکٹر امینہ ودود، ارشاد مانجی اور اسرایٰ نعمانی جیسی قلندرانیوں کی دین فطرت کو فرسودہ قدروں اور کٹھ ملائیت سے بچانے والی کوششوں کو کیوں کر برداشت کر سکتا ہے۔ ایسے مردگان ملائیت کے کانوں میں وہ سوراخ ہی نہیں جن کے ذریعے سے وہ ایسی باتیں سن سکیں۔ ’ملا کی اذاں اور ہے غازی کی اذاں اور‘، دینا ٹوپی والا کوئی ہر روز تو علامہ اقبال کو جنم نہیں دیتا نہ۔ یہاں تو تہمینہ درانی جیسی جگرے دار خواتین کی شادی شہباز شریفوں سے ہوجاتی ہے۔ اسی پر کسی نے کہا ’اس سے پاکستان میں عورتوں کے حقوق کیلیے لڑائی کا ایک مورچہ خالی ہوگیا‘۔ بہت دن ہوئے کہ میں یورپ میں تھا اور وہاں کتابیں پڑھنے والے لوگوں نے بینظیر بھٹو کی خودنوشت ’دختر مشرق‘ کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن انہوں نے تہمینہ درانی کی کتاب ’مائی فیوڈل لارڈ‘ پڑھی ہوئی تھی۔ کیا کوئی مجھے بتا سکتا ھے کہ کیا قضیۂ کربلا کے بعد دربارِ یزیدی میں اسیرۂ شام سیدہ زینب کے خطاب سے بہتر کوئی آج تک دین محمدی میں ظلم و ناانصافی کو للکارنے کی ضمن میں رہنما دستاویز موجود ھے؟ نہ جانے ایسے دین محمدی کی تاویلیں اور تشریحات اپنے مطلب کی کرنیوالوں نے رابعہ بصری کو محض ’ آدھا قلندر‘ کیسے کہہ دیا۔ جب پاکستان میں ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخابات میں ملک کے بانی کی ہمشیرہ فاطمہ جناح میدان میں اتری تھیں تو ایوب خانی آمریت کے راج بھاگ کی خیر کہنے والے علمائے سو نے فتوٰی دیا تھا کہ عورت کی قیادت جائز نہیں مگر چند علمائے حق ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلامی تاریخ میں عورت کی قیادت کے حوالے سے بی بی زینب کی مثال دی تھی۔ اس وقت ایوب خان کے برخوردار وزیر خارجہ اور انکی بنیادی جمہوریتوں کا سب سے بڑا دفاع کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے پھول باغ خیرپور میرس میں اپنی تقریر میں فاطمہ جناح کے عہدہ صدارت کے لیے انتخابات لڑنے اور ان کی سیاست میں قیادت کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے طنز کیا تھا کہ ’ یہ صدر تو ہم نے سنا ہے لیکن ’صدری‘ کیسے بنے گی۔‘ پھر تاریخ کا کرنا ایسا ہوا کہ بھٹو کی اپنی اہلیہ اور بیٹی کو سیاسی قیادت سنبھالنا پڑی۔ بھارت کی مقتول وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ جنرل ضیاءالحق نے پاکستان میں عورتوں کیلیے قوانین امتیازی اور سخت اس لیے بھی بنوائے ہیں کہ وہاں بھٹو خواتین سیاست میں ہیں۔‘ رونا تو اس بات کا ہے کہ بھٹو خواتین نے بھی تو پاکستان میں عورتوں کے خلاف ضیاءالحق کے متعارف کردہ قوانین کو ختم کروانے کیلیے کوئی خاطر خواہ کارنامہ سرانجام نہیں دیا حالانکہ انہیں پاکستان میں حکومت کرنے کے دو مواقع ملے تھے۔ ایسے اور اسی طرح کے کٹر پنے میں ڈاکٹر امینہ ودود، اسرای نعمانی اور ارشاد مانجی جیسی خواتین قید خانے کی کھڑکی سے بہار کے پہلے جھونکے کی طرح ہوتی ہیں۔ یہ مسلمانوں کی قرت العین طاہرائیں! یہ جو نیویارک کے ایمسٹرڈم ایونیواور براڈوے پر واقع تاریخی کیتھولک چرچ میں ورجینیا یونیورسٹی آف کامن ویلتھ کی اسلامیات کی پروفیسر ڈاکٹر امینہ ودود نے نماز کی امامت کی ہے اسکی اصل مدارالمہام اسرایٰ نعمانی ہیں۔ برصغير کے جید عالم مولانا شبلی نعمانی کی پڑ پوتی، ہندوستان میں جنم لینے لیکن امریکہ میں پلی بڑھنے والی اسرایٰ نعمانی نے اس وقت پانی میں پہلا پتھر پھینکا تھا جب وہ ورجینیا ریاست کے مورگن ٹاؤن کی مسجد میں ایک ہی صف میں مردوں کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہتی تھیں اور جس کی اجازت مسجد کی انتظامیہ نے نہیں دی اور انہوں نے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ کی یہ سابق رپورٹر اسرای نعمانی صوفی ازم پر اپنی ’ٹینطریقہ‘ کے عنوان سے کتاب لکھنے کے سلسلے میں کراچی میں تھی جب اس نے ڈیفنس فیز فائیو میں اپنے گھر اپنے دوست صحافی ڈینیل پرل اور اس کی بیوی میرین کو مہمان رکھا تھا۔
سندھی مزاج صوفی کہتے ہیں ’خدا نجانے کس چیز میں راضی ہے۔‘ مجھے سندھی شاعر و صحافی انور پیرزادہ کے والد یاد آتے ہیں جو پہلی بار اپنے گاؤں کے عورتوں کو صوفی سماع سننے کیلیے گھروں سے لیکر آئے تھے جو اس سے پہلے عورتوں کیلیے ممنوع تھی۔ یہ کہ’اسلام کو عورتوں اور مذہبی و جنسی اقلیتوں کے حقوق‘ اور ظالمانہ حد و تعزیرات بہت ہی تنگ و تاریک شرعی تاویلات و تشریحات پر اجتہاد کی اشد ضرورت ہے‘۔ یہی مانجی ارشاد، اسرایٰ نعمانی اور امینہ ودود جیسی مسلمان عورتوں کا مطمعۂ نظر ہے۔ جب قرآن میں مومنوں اور مومنات کو یکساں مخاطب کیا گیا ہے تو پھر وہ نماز میں ایک ہی صف میں کیوں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ میں نے بہت دن بیتے کہ معروف جرمن اسلامی عالم بسام طبی سے سلمان رشدی پر خمینی کی طرف سے جاری ہونے والی ’سزاۓ موت‘ پر ان کے خیالات جاننا چاہے تھے تو انہوں نے کہا تھا: ’سلمان رشدی کے خلاف تلوار میرا قلم ہونا چاہیے۔ مطلب کہ قلم کا جواب قلم ہونا چاہیے‘۔ وگرنہ امریکہ کی ریپلکن پارٹی کے بہت سے قانون سازوں اور عیسائی رہنماؤں کے مذہبی، سیاسی و سماجی نظریات کٹھ ملاؤں سے کوئی زیادہ مختلف نہیں۔ کیتھولک چرچ نے نیو یارک میں اپنے تاریخی گرجا کے احاطے میں امینہ ودود کو تو جمعے کی نماز کی امامت کی اجازت دی لیکن سین ڈیاگو میں ھم جنس نائٹ کلب کے مالک جان مکسکر کی آخری رسومات سینٹ پال گرجا میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس بنا پر کہ جان مکسکر کے کلب میں بقول چرچ کی انتظامیہ کے ایک ھم جنس عریاں فلم کی فلمبندی کی گئی تھی لیکن نائٹ کلب والوں کا کہنا ہے کہ ایسی فلموں کی فلمبندی تو پورے شہر میں ہوتی ہے۔ کیتھولک چرچ کے اس فیصلے کو یہاں کے قدامت پسند لیکن کثیرالاشاعت روزنامے ’سین ڈیاگو یونین ٹریبیون‘ نے یہاں کے بشپ رابرٹ برام کی تصویر کے ساتھ شائع ہونے والے اپنے ’غیر روادار بشپ‘ کے عنوان سے اداریے میں تجہیز و تکفین سے انکار، انسانی تکریم سے انکار اور کیتھولک تعلیمات کی نفی قراردیا ہے۔ ھم جنسیت اور اسقاط حمل کے مخالف جانے والے اس روزنامے نے جان مکرکس کے جنازے میں شرکت کرنے والے ایک گے کا تبصرہ شائع کیا ہے جس نے کہا تھا:’ کیتھولک چرچ کا یہ فیصلہ نازی جرمنی میں تب یہودیوں اور ہم جنسوں کے ساتھ رکھے جانے والی روش کی یاد دلاتا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||