دشمن پڑوسی نہیں، انتہاپسندی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات بھی انہی ممالک کے بہت سے علاقوں میں اب بھی ہونے والے ’وٹے سٹے‘ کے رشتے کی طرح تھے جس میں بیاہی عورت کی جب سسرال میں مار پیٹ ہوتی ہے تو جواب میں اسکے وٹے میں بیاہی اسکی بھابھی پر بھی اسکے سسرال میں گھریلو تشدد ھوتا ہے- ادھر کوئی واقعہ بھارت میں ہوا یا کسی پاکستانی سفارتکار کو وہاں سے نکالا گیا تو جواب میں ایسا واقعہ پاکستان میں بھی ہوتا اور وہاں بھی کسی بھارتی سفارتکار کو پاکستان نکالا دیا جاتا- یہاں تک کہ بہت سے واقعات میں تو سفارتکاروں تک کی مار پٹائی ہوجاتی۔ ایسے تعلقات کے کہنہ مشق ستم گر بھارتی اور پاکستانی انٹیلیجنس، ترتیب وار، ’را‘ اور ’آئی ایس آئی‘ والے ہوا کرتے تھے۔ یا کوئی بعید نہیں کہ دونوں ملکوں کی ایک دوسرے کی طرف خارجہ پالیسی کے بہت سے ’نکات‘ ان ممالک میں وزارت خارجہ کے دفاتر سے زیادہ آئی ایس آئی اور را کے ڈائریکٹر جنرل بناتے ہونگے۔ کل بی بی سی (اردو) پر بزرگ دانشور اور کشمیر پر معروف تجزیہ نگار اے جی نورانی بلکل درست کہہ رہے تھے کہ 'ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں اپنی روٹی کشمیر کی آگ پر سینکتی رہی ہیں۔ پاکستانی اور ہندوستانی جاسوسی اداروں کی ایسی دیکھی اور ان دیکھی جنگوں پر ایک بہت ہی دلچسپ کتاب ہے ’وہ جنگ جو کبھی بھی نہیں ہوئی‘۔ جس طرح اکثر پاکستانی ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کو ’مقبوضہ کشمیر‘ کہتے ہیں اس طرح کچھ سندھی قوم پرست بھی سندھ کو ’مقبوضہ سندھ ‘ کہتے ہیں یا اب ’کہا کرتے تھے‘۔ اب جو پاکستان نے کشمیری عسکریت پسندوں کی سخنے ’دامے‘ (جسے وہ ’اخلاقی‘ کہا کرتا تھا) ’لشکری عسکری‘ حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے (یا کم از کم ایسا باور کرانے میں کامیاب گیا ہے) تو ایسا لگتا ہے کہ دوسری جانب بھارت نے بھی سندھی اور مہاجر علیحدگی پسندوں کی ’غیبی امداد‘ سے ’چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ‘ سے کام لینا شروع کردیا ہے- اب کشیراور بشمول کراچی سندھ کے بہت سے '’غلام نبی آزادوں‘ کی فاقہ مستی کوئی رنگ لانے والی نہيں رہی- وگرنہ کراچی میں تو بچہ بچہ جانتا تھا کہ بھارت اور بمبئی میں بڑے بڑے بلووں کے بانی ’بھائی لوگوں‘ کی حفاظت پر کون مامور ہوا کرتے تھے- یا داؤد ابراہیم اور چھوٹے راجن کے نام بھارت کی ’انڈر ورلڈ‘ سے زیادہ کراچی کی ’پبلک‘ کی ز بان پر ایسے تھے جیسے شاہ رخ خان، الطاف حسین یا آصف زرداری کا ہوا کرتا ہے- مجھے ایک طاقتور مغربی ملک کے پاکستانی افسر نے کہا کہ بھارت اپنے رشتہ داروں سے بوڑھے والدین کے ملنے جانے کے لیئے ویزے کے واسطے بھارتی سفارتخانے فون نہیں کرسکتا کہ اپنے ہی ملک کی انٹیلیجنس والوں سے خوف آتا ہے- ادھر تھر کے مٹھی اور دوسرے شھروں میں رہنے والے ہندو شھریوں کو ہندوستان میں سے اپنے عزیزوں کو آنے والے بذریعہ ڈاک کے خطوں پر انٹییلیجنس والے ان کو تنگ کرتے اور ’خرچہ‘ بٹورتے۔ ہندستان میں بسنے والے مسلمانوں کا حال بھی کوئی مختلف نھیں تھا جس میں ’ایک رپورٹ کے مطابق‘ جنرل پرویز مشرف کے اپنے عزیز بھی شامل تھے- اس کام پر آج سےدس برس قبل تک پاکستان اور پاکستان سے باہر امن پرست قومپرست یا اعتدال پسند لوگ قابل گردن زنی ٹھہرائے جاتے تھے یعنی بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو ایک دوسرے سے کانفرنسوں اور سیمیناروں میں ملوانے اور قریب آنے کا وہ کام جو آجکل پاکستان میں جنرل پرویز مشرف سمیت سبھی کر رہے ہیں- کچھ سال ہوئے کہ جب واشنگٹن میں ایک سندھی کانفرنس کے پینل میں شریک ساتھی مہمانوں کو پانڈی چری کے مرحوم گورنر اور سیاستدان کے آر ملکانی نے تحفتاً بھارتی ترنگے کے رومال گلے میں پہنائےتھےتو پاکستانی پریس کے ایک حصے نے ان پاکستانی مندوبین کے گلے میں جیسا کہ حیدرآباد سندھ کے لوگ کہتے ہیں ’فلم‘ ڈال لی تھی- انہوں نے ہندستانی ترنگـے کا رومال گلے میں کیا پہنا بھائی لوگ انکی پھانسی کا مطالبہ کرنے لگے- کیا یہ ہند پاک کے لیڈران کرام ایک زندہ جاوید یتزاک رابن نہیں بن سکتے! تاریخ میں رائے سہاسی کے خاندان داہر کے بعد اگر کوئي حکمران آیا تو وہ بھٹو تھا جسکی موت پر ماتم کرنے والوں میں بارا مولا اور اننت ناگ کے کشمیری بھی شامل تھے لیکن اس بھٹو نے بھی ہندوستان سے ہزار برس تک لڑنے کی بات کرکے ان کشمیریوں کے ایک دوسرے سے ملنے میں اتنے فاصلے بڑھانے میں مدد کی جو ویسے تو بہت سے مقامات پر ستاون میل بھی نہیں تھے لیکن ان کو قریب آنے میں ستاون برس گزر گۓ۔ ہندوستانی مسافر طیارے ’گـنگا‘ کے اغوا سے لیکر اب اس بس چلنے تک کشمیر کی ایک عجب کہانی ہے۔ کشمیر جو خالصتاً انسانی اور انسانی حقوق کا مسئلہ زیادہ تھا اسے دونوں ملکوں کے حکمرانوں اور جاسوسی ایجنسیوں نے اپنی طاقت کی گاڑی کا ایندھن بنادیا- اس کشمیری پنڈت جواہر لال نہرو کی دلچسپی بھی کشمیریوں سے زیادہ لیڈی ماؤنٹ بیٹن میں ہی تھی- فیض احمد فیض اور ایلس فیض کا نکاح کشمیری رہنما شیخ عبدا للہ نے پڑھایا تھا جو تب تک ’شیر کشمیر‘ تھے جب تک پاکستانی سرکار کی کشمیر پالیسی کو موزوں لگتے تھے لیکن وہ تب سے ’گیدڑ‘ بن گے جب انہوں نےپہلے کشمیری بن کر سوچنا اور کہنا شروع کیا۔ وہی حال شیر بنگال فضل حق کا ہوا- مذہبی سیاسی جماعتیں اور جی ایچ کیو راولپنڈی میں ’ساجھے‘ کے جنرل کشمیریوں سے زیادہ کشمیریوں کے دوست ہوگـۓ۔ سندھی میں کہتے ھیں ’کوے کو شور میں مزا آتا ہے‘ اب جب دہلی کے لال قلعے پر ہرچم لہرانے والی مذہبی جماعتوں کی بات زیادہ چلنے کی نہیں تو انکی سوئی جاکر میراتھن ریس اور بچوں بچیوں کے نیکر پہننے پر اٹکی ہے۔ آپکو یاد ھوگا کہ انہوں نے کرکٹ کے کھیل میں کھلاڑی کی گیند اسکے زانوں سے رگڑنے پر بھی ہنگامہ برپا کر دیا تھا! اور ادھر کشمیر میں در انداز اور غیر در انداز عسکری ہیں کہ ’نہ کھیڈاں گے نہ کھڈن دیوآں گے‘ کے مصداق بنے ہوئے ہیں- لیکن اب ان دونوں ملکوں کے لوگ جاننا شروع ہوئے ہیں کہ انکے اصل دشمن یہ ایک دوسرے کے پڑوسی نہیں پر وہاں موجود انتہا پسندی ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||