BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 May, 2005, 19:43 GMT 00:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ نیپام الامان،ویتنام ویتنام

News image
ویتکونگ کے فوجی سائیاگون میں۔
ان کا اصل نام تو اب مجھے یاد نہیں لیکن سب لوگ انھیں ’چچا ھو‘ یا ’چاچا ھوچی منہ‘ کہا کرتے کیونکہ سندھ روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز یونین کے رہنما کی شکل بڑی حد تک ویتنامی کمیونسٹ رھنما ھوچی منہ سے مشابہت رکھتی تھی۔

ان دنوں یہاں امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی بہت سے لوگ جنگ ویتنام مخالف تھے اور مجھے یاد ہے کہ ملک میں امریکی ثقافتی مراکز کے باہر (جن کی لا‏ئیبریریوں میں میرے جیسے لوگوں نے اپنی زندگی کی بہت سی دوپہریں گزاردیں) امریکی مخالف اور ویتنامیوں کی حمایت میں مظاہرے ہوا کرتے۔

یار لوگوں کا غصہ ہوتا امریکہ ، برطانیہ یا شاہ اور اسکے ایران پر لیکن جلتی کتابیں امریکن سینٹر، برٹش کونسل یا پھر خانہ فرھنگ کی لائيیریریوں کی۔
اسی پر ہی ترقی پسند شاعر حسن حمیدی نےلکھا تھا:

وہ گیتا بھگوت ہو کہ صحیفہ قدسی
کتاب کوئی بھی ہو
ہم احترام کرتے ہیں
کتاب کہ جن کو جلایا گیا سر بازار
بنام حق و صداقت سلام کرتے ہیں

ہمیں معلوم تھا کہ زندگی اور سیاست ِدوراں کی بہت سی حقیقتیں’بقول شخصے‘ رنگین لیکن فینسی میگزینوں کی طرح جھوٹی بھی ہوتی تھیں۔ لیکن انہی لائیبریریوں میں ہمیں وہ مواد بھی پڑھنے کو ملا جو ویسے بھٹو اور ضیاءالحق کے پاکستان میں شائع ہونے والے جرائد اور کتابوں میں سرے سے ہوتا ہی نہیں تھا اور اگر بھولے سے ہوتا بھی تو سنسرہوا ہوتا۔

یہیں پر میں نے ارنیسٹ ہیمنگ وے ، والٹ وٹمین، ایلن گنسبرگ، ایلن پو اور کے بی سعید اور پروفیسر لارینس زائرنگ کی پاکستان اور برصغير کی سیاست سے متعلق کتابیں بھی پڑھیں تو کمیونسٹ دنیا کے سولزے نیتسن، میلان کندیرا اور زان پسترناک جیسے منحرف ادیبوں کی شاھکار تخلیقات سے بھی روشنائی ہوئی تو بی جیز، ایبا اور کینی روگ اور جانی کیش جیسےگانے والوں اور موسیقی کے گروپوں کو سننے کے مواقع بھی ملے۔

میں نے پہلی بار امریکی جردیدے ’ڈا‏ئیلاگ‘ میں ہی فرانسسس فوکویاما کا ’اینڈ آف ہسٹری‘ ، مقالہ گورباچوف کی ’پیریستروئیکا‘ اور ’گلاسنوسٹ‘ کے متعارف ہونے سے بہت پہلے پڑھا۔ اور تب ان امریکی سینٹروں کے شٹر اور آہنی دروازے بند ہوتےجب سول ہسپتال روڈ حیدرآباد یا وکٹوریہ روڈ کراچی پر امریکی مخالف جلوس آتے۔

یہیں پر ہم نےاس سے بہت پہلے مشعل بردار جلوس بھی دیکھا جب ویتنام سے امریکی فوجیں واپس ہوئی تھیں۔ ویتنام کی حمایت میں بہت سے پاکستانی شہروں میں بھی جلوس نکالے گئے۔ابھی جماعت اسلامی اور ان جیسی بہت سی پارٹیاں امریکہ نواز کہلائی جاتی تھیں۔

سندھی ادب اور سیاست میں ویتنام کو متعارف کروانے والے شیخ ایاز اور رسول بخش پلیجو تھے۔ شیخ ایاز کی بہت سے نظمیں اور ابیات ویتنام پر ہیں۔ ’شیر داناناگ کے آگے بڑھتے رہے‘، جیسی نظم اور سکھر سینٹرل جیل میں قید کے دوران انکے لکھے ہوئے ابیات کا ایک پورا باب ویتنام پر ہے۔

ویتنام کی جنگ میں مارے ہوئے ایک گمنام امریکی فوجی پرشیخ ایاز کی ایک نظم ہے:
یہ کون پڑا ہے ریتی پر
اور اسکی گھائل چھاتی پر
جنگی تمغے ہیں چمکیں
اور اسکے آہنی خورد تلے
بندوق پڑی ہے دھرتی پر
بس اک زرد پھول اسے
دیکھ رہا ہے حیرت سے

رسول بخش پلیجو کا ھوچی منہ کی سوانح عمری اور شاعری کا سندھی زبان میں ترجمہ پڑھنے والوں میں بہت ہی مقبول ہوا اور ویتنامی کمیونسٹ تحاریک اور ویتنامی آزادی پسندوں کی زندگیوں کے بارے میں سندھی میں ترجموں کی کتابین اور مواد رسول بخش پلیجو کےماھنامے’تحریک‘ میں شائع ہوتے۔

ان میں سے ویتنامی نگوین وان تروئی کی جدوجہد اور موت پر پلیجو کا ترجمہ ’جے ماریا نہ موت‘ 'جنھیں موت نھیں مار سکی) پڑھنے والوں میں بہت دنوں تک مقبول ترین کتاب رہی تھی۔ پلیجو کی ھوچی منہ کی ترجمہ کی ہوئی نظمیں آپ کو لگے گا کہ لکھی ہی سندھی زبان میں گئی تھیں!
ہائے رب ہائے رام
اور یہ نیپام الامان
ویتنام ویتنام

کمیونسٹ اور ویتکانگی ادب سے بھی زیادہ جس رہنما یا پڑھےلکھے سیاسی کارکن اور ادیب نے’نیویارک ٹائیمز کے منکشف کیے ہوئے ’پینٹاگان پیپرز‘ پڑھے ہوتے اسے ویتنام اور وہاں امریکی پالیسیوں کا ماہرمانا جاتا۔

سندھی قوم پرست طلبہ کی ایوب خان کی حکومت کیخلاف چار مارچ انیس سو ستاسٹھ کو ہونیوالے معرکے (جس سے سندھی قوم پرست طلبہ تحریک کی دا‏غ بیل پڑی) کو ویتنامیوں کے مشہور معرکے ’ڈین بین پھو‘ سے مشابہت دی گئی۔

اس وقت کے ویتنامی وزیر اعظم لے ڈک تھو کی ملک بدری پر سندھ اور پاکستان کے ویتکانگ نواز سیاسی لوگ بہت شادمان ہوئے تھے۔ اطالوی صحافی اوریانا فلاسی کی دنیا کے رہنمائوں سے انٹرویوز پر مشتمل کتاب ’انٹویوز ود ہسٹری‘ میں بھٹو کے بعد جو انٹرویو سیاسی کارکنوں اور بہت سے پڑھنے والوں میں کافی پڑھاگیا تھا وہ ویتنام میں جنرل گیاپ کا تھا۔

سندھی سیاست اور ادب کے علاوہ ملکی سیاست اردو اور دیگر قومی زبانوں میں بھی ’ویتنام‘ ایک استعارہ بن چکا تھا۔ جہلم سے بر صغیر کے ایک سینئر کمیونسٹ دادا امیر حیدر سنہ انیس سو تیس کی دہائی میں تب کی ماسکو یونیورسٹی میں ھوچی منہ کے ساتھ پڑھے تھے۔

ھوچی منہ پر فرانسیسی لکھاری زان لاکوتیور کی لکھی سوانح حیات اور ویتنام پر برٹرانڈ رسل کی تحریریں اور تحقیقی رپورٹیں اردو میں لاہور سے پیپلز پبلشنگ ہاؤس والوں نے شائع کی تھیں۔

ذولفقعار علی بھٹو اپنے پسندیدہ اور پاکستان کے ایک مشہور اسپورٹس فوٹوگرافر کو ’ویتکانگ‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ بہت سالوں بعد ضیاءالحق کے خلاف سندھ میں چلنے والی تحریک میں دادو ضلع کے اگلے مورچے ہونے کی وجہ سے دادو کا نام ہی ’ویتنام‘ پڑ گیا۔

پر جوش سندھی سیاسی کارکن نعرہ لگاتے ’ویتنام ویتنام ، دادو ضلع ویتنام‘۔

لیکن تم یہ ویتنام کے متعلق تمام چیزیں کیسے جانتے ہو؟ جرمنی میں ایک ویتنامی صحافی وان نےمجھ سے ایک بار کہا تھا۔ ’مجھے جرمنی آنے کیلیے اپنی حکومت سے اجازت لینی پڑی جو وہ شاذ نادر ہی دیتی ہے، وان نے مجھے بتایا تھا۔

اور جب میں نے یورپ اور جنوب مشرق ایشیا کے ملکوں میں خود ویتنامی جلاوطنوں عرف عام ’بوٹ پیپل‘ کی زباں سے کمیونسٹ ویتنام کے مطلق العنان حکمرانوں کے جبر واستبداد کے قصے سنے تو پھر مجھے کمیونسٹ منحرف ادیبوں اور شاعروں کی تحریروں پر اور بھی یقین پختہ ھوگیا۔

جب میں نے بنکاک سے لیکر برلن تک اپنی آنکھوں اور کانوں سے ویتنامی اور کمبوڈیائی خاندانوں سے بچھڑی ہوئی عورتیں اور مرد طوا‏ئف بنے دیکھے اور سنے۔
ایسا مائیک نامی ایک نوجوان بھی تھا جس کا باپ ایک سابق امریکی فوجی اور ماں ویتنامی تھی۔

کنیڈی نکسن ویٹنام
گوگرے ھائونڈ
کیس ڈسمسڈ

بظاہر یہ بے ربط جملہ کوئی ھائیکو یا کسی ھپ ھاپ گانے کا مکھڑا نہیں بلکہ ایک ذہنی توازن بگڑے ہوئے ایک سابق امریکی فوجی کی خود کلامی تھی جو میں نے ’ویٹرنس ڈے‘ والے دن بس میں سفر کرتے بار بار اسے اپنے آپ یہ کہتے سنا تھا۔

ویتنام کی جنگ سے لوٹنے والے امریکی فوجیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بےگھر اور منشیات کی سخت عادی ہوچکی تھی اور کئی کا ذہنی توازن بگڑ چکا تھا۔
ایسے سابق فوجیوں میں کریگ بھی ہے جو صبح ہوتے ہی’پندرہ نمبر‘ بس سے اتر کر اپنا رخ شراب کی دکان کی طرف کرتا ہے۔ وزنی بھاری فوجی تھیلا یا پیٹھ پر لادے اور پیروں میں بھاری بھرکم بوٹ پہنے ہوئے یہ کريگ اپنا رخ شراب کی دکان کی طرف کرتا ہے۔

لیکن اسے کوئی دکاندار شاید ہی سستی لیکن انتہائی تیزاور کڑوی بیئر ’کوبرا‘ کی بوتل فروخت کرتا ہے۔ گيس اسٹیشنوں یا شاپنگ مال پر بھیک مانگتے ہوئے کريگ کے بارے میں بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ ویتنام میں جنگ پر جانے والافوجی تھا۔ کبھی کبھی کریگ اسٹوروں پر سیلز کلرکو‍ں کی بدلتی ہر شفٹ کے ساتھ چکر لگاتا ہے کہ شاید ہی کوئی اسے بیئر کی بوتل بیچ دے۔

ایسے مواقعوں پر دوسرے گاہک کریگ کی بیئر کی بوتل خریدنے میں مدد کر ہی دیتے ہیں۔ کریگ لڑکھڑاتے قدموں اور زبان سے اگر شراب کی دکانوں کے چکر نہیں لگا رہا ہوتا تو وہ یا تو مقامی لائيبریری میں ہوتا ہے یا پھر بک اسٹور پر جہاں وہ کتاب پڑھنے کے بہانے سیکورٹی والے سے آنکھیں بچاتے ہوئے اونگھنے کی کوشش کررھا ہوتا ہے۔

کریگ کا کہنا ہے ’مجھ سے پوچھو جنگ کتنی بری ہوتی ہے‘۔ آج میں نے اسی بک اسٹور پر کریگ کو دیکھا اور پھر اسٹور پر لگے ایک پوسٹر کو ’بیل جار –سلوایا پلاتھ‘۔ مجھے یاد آیا میں نے ا مریکی شاعری پر پہلی کتاب (’بیل جار‘) اس خود کشی کرنے والی شاعرہ سِلوایا پلاتھ کی امریکن سینٹر کی لائیبریری میں پڑھی تھی۔ اور پھر کريگ کو دیکھ کر یا د آیا جنگ ویتنام کو تیس برس گذر گئے اور وہ سابق فوجی بھی جو اب گھروں کو رنگ کرتا ہے۔

اس نے مجھے بتا یا تھا کہ ’جب میں ویتنام کی جنگ سے لوٹا تو میرا گھر بار جاتا رہا تھا۔ میں چرچ کے رنگ و روغن کی دیکھ بھال کیا کرتا اور اسکے بدلے چرچ والوں نے مجھے چرچ سے ھی متصل رہنے اور سونے کو ٹھکانہ مہیا کیا ہوا ہے‘۔

گڈ مارننگ ویت نام
جنگ کے تیس سال بعد ویتنام کا تاریخی منظرنامہ
تیس سال بعد
ویت نام جنگ کی انقلاب آفریں تصاویر
66پاک ہند کا وٹہ سٹہ
اصل دشمن انتہاپسندی ہے۔ حسن مجتبیٰ کا کالم
66بچپن کی محبت
بھٹو ضیا الحق کے’پہلے‘ قیدی تھے، حسن مجتبیٰ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد