ویتنام میں تیس برس تک جاری رہنے والی جنگ کا آغاز انیس سو چالیس کے عشرے میں فرانسیسی نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف کمیونسٹوں کی جد و جہد سے ہوا جو انیس سو پچھہتر میں سائگون اور پھر پورے ملک پر قبضے کی شکل میں منتج ہوا۔
| ویت نام جنگ یا امریکہ کی جنگ |
 |  ہوچی منہ نےویت نام کی قوم پرست تحریک کی 30برس تک رہنمائی کی | امریکی جس جنگ کو ’ویتنام وار‘ اور ویتنامی ’امریکن وار‘ کے نام سے پکارتے ہیں، 1965 سے لے کر 1973 تک جاری رہی۔ ملک کے شمال میں کمیونسٹ قوتوں نے قوم پرست رہنما ہوچی مِنہ کے زیر قیادت 1954 میں فرانسیسیوں کوشکست دی۔
اس کے بعد متعدد معاہدے طے پائے اور ملک کے شمالی حصے کو، کہ جہاں کمیونسٹ آباد تھے، غیر فوجی علاقے (ڈی ملیٹرائزڈ زون) کی مدد سے ملک کے امریکہ نواز جنوبی حصے سے علیحدہ کر دیا گیا۔ مسئلے کے مستقل حل کے لیے ملک گیر سطح پر انتخابات کا وعدہ کیا گیا جو کبھی پورا نہ ہوا۔ اور یوں آئندہ پانچ برس کے عرصے میں کمیونسٹوں نے جنوبی ویتنام پر گوریلا جنگ یعنی چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ کمیونسٹں وقتوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے لاکھوں امریکی فوجی ویتنام بھیجے گئے۔ لیکن ایک مہنگی، طویل اور ناکام جنگ شہری بدنظمی اور بین الاقوامی سطح پر خفت کا باعث بنی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اکیس سالہ جنگ کے دوران شمالی اور جنوبی ویتنام میں چالیس لاکھ شہری اور ایک لاکھ دس ہزار کمیونسٹ جنگجو ہلاک ہوئے۔ امریکی ریکارڈ کے مطابق جنوبی ویتنام کے دو سے ڈھائی لاکھ فوجی ہلاک جبکہ جنگ میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد اٹھاون ہزار دو سو بتائی جاتی ہے۔
 |  امریکہ نےساٹھ کی دہائی کے اوائل میں جنوبی ویتنام کی مدد شروع کی | انیس سو پچاس کے عشرے میں جنوبی ویتنام میں کمیونسٹ چھاپہ مار فوج ’ویتکونگ‘ ابھری جسے حکومت سے مایوس ہو جانے والے مقامی باشندوں کی حمایت حاصل تھی۔ ویتکونگ کے منظر عام پر آتے ہی جنوبی ویتنام کے لئےامریکی امداد میں بھی اضافہ ہوگیا۔ لیکن امریکی مداخلت اس وقت اپنے عروج کو جا پہنچی جب اگست انیس سو چونسٹھ میں شمالی ویتنام کے دستوں نے بحرِ ٹونکِن میں امریکی بحری جنگی جہاں پر تارپیڈو داغا۔اس کے بعد امریکی فوج پر کیے گئے بظاہر دوسرے اور انتہائی متنازعہ حملے کے بعد امریکی صدر لِنڈن جانسن نے شمالی ویتنام میں واقع بحری اڈوں پر فضائی حملے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
 |  1964 سے لے کر 1967 کے درمیان ویتنام میں امریکی فوج میں خاصہ اضافہ کیا گیا | انیس سو پینسٹھ میں جب جنوبی ویتنام کی فوج کو معمولی سی کامیابی حاصل ہونے لگی تو امریکہ نے شمالی ویتنام پر متواتر بمباری کا آغاز کر دیا۔ لیکن وہ جنوبی ویتنام میں ویتکونگ دستوں کی کارروائیوں پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ جولائی انیس سو پینسٹھ میں امریکہ نے ایک لاھ امریکہ فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کوریا، فلپائن اور تھائی لینڈ کے فوجی بھی شامل تھے۔ اس اقدام کا مقصد علاقے پر قبضہ نہیں بلکہ کمیونسٹوں کی جنگی صلاحیت کا خاتمہ کرنا تھا۔ شدید ترین امریکی عسکری کارروائیوں کے باوجود ویتکونگ دستے سوویت یونین اور چین سے حاصل کردہ طیارہ شکن گنز اور لڑاکا طیاروں کی مدد سے بیرونی قوتوں سے نبرد آزما رہے۔
 |  ویتکونگ کے فوجی امریکی سفارت خانے میں داخل ہونےمیں کامیاب رہے | شمالی ویتنام اور ویتگونگ کے دستوں نے اکتیس جنوری کو قومی تعطیل کے موقع پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا۔ اس دوران چھتیس صوبائی دارالحکومتوں اور ملک کے چھ بڑے شہروں پر ایک ہی وقت چڑھائی کی گئی۔ ان میں سائگون بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود کہ حملہ انتہائی شدید اور اچانک تھا، امریکی اور جنوبی ویتنام کی فوجوں نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور حملہ آور فوجی دستے ہیو شہر کے علاوہ کسی بھی جگہ چند روز سے زیادہ قابض نہ رہ سکے۔ اس کے باوجود کہ ان واقعات میں خصوصاً ویتگونگ کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا، وائٹ ہاؤس کے وہ تمام دعوے غلط ثابت ہوتے شکھائی دیئے جن میں کہا جا رہا تھا کہ کامیابی امریکہ کی دسترس سے دور نہیں رہی۔
 |  امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں جنگ مخالف ردعمل میں شدت کا باعث بنی | انیس سو سڑسٹھ میں منتخب ہونے کے بعد امریکی صدر رچرڈ نیکسن نے ویتنام سے نکلنے کی پالیسی اپنائی۔ نکسن کی نئی پالیسی کے تحت جنوبی ویتنام کے دستوں کی تربیت کی جانی تھی تاکہ علاقے میں امریکی فوج کو کم کیا جا سکے۔ آئندہ تین برس کے دوران پانچ لاکھ فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا لیکن جنگ کے معاملے پر امریکی عوام کی برہمی بدستور جاری رہی۔ جون انیس سو انہتر میں ہیمبرگر ہِل کی لڑائی میں چھیالیس امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے سبب تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ہوچی منہ انیس سو انہتر میں انتقال کر گئے لیکن ان کے جانشیں لا دوان بدستور امریکی فوج سے برسرِپیکار رہے۔ انیس سو انہتر ہی میں پیرس میں فریقین میں پہلی بار مذاکرات کا آغاز ہوا۔ تاہم انیس سو بہتر میں امریکہ کی طرف سے ہنوئی پر آٹھ روز تک کی جانے والی بمباری باآخر انیس سو تہتر میں امن معاہدے پر منتج ہوئی۔ اس معاہدے میں طے پایا کہ امریکہ ویتنام سے واپس چلا جائے گا اور جنوبی ویتنام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ہو گا
 |  ویتکونگ نے کسی مزاحمت کے بغیر صدارتی محل پر قبضہ کرلیا | بالآخر مارچ 1973 میں امریکی فوجی ویتنام سے واپس چلے گئے لیکن بعض ذرآئع کا کہنا کہ ’جنگ کے بعد کی جنگ‘ جاری رہی۔ جنوبی اور شمالی ویتنام ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے اور لڑائی جاری رہی۔ جنوبی ویتنام کو ملنے والی امریکی مدد کم ہو جانے کے باعث حکومت کمزور پڑگئی تھی۔مارچ انیس سو پچھہتر کے اوائل میں ہنوئی نے پورے ملک پر قبضے کی غرض سے حملے کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا۔ جنوبی ویتنام کی فوج توقع سے پہلے ہی پسپا ہو گئی اور سات ہفتے کے اندر کمیونسٹ فوجیں جنوبی ویتنام کے کونے کونے میں پھیل چکی تھیں۔ لاکھوں پناہ گزین سائگون کی طرف کوچ کر گئے۔ شمالی ویتنام کی فوج نے اکیس اپریل کو سائگون کی طرف پیش قدمی کی اور جنوبی ویتنام کے صدر استعفیٰ دے دیا اور امریکہ کو برا بھلا کہتے ہوئے تائیوان فرار ہو گئے۔ چھ روز بعد سائگون کا محاصرہ ہو گیا، شہری علاقوں پر گولے داغے گئے اور لوٹ مار کا آغاز ہو گیا۔ تیس اپریل کو شمالی ویتنام کے ٹینک بلا مزاحمت وسطی سائگون میں داخل ہو گئے۔ | |   | | تازہ ترین خبریں | |
|