آچے کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے شمالی سرے پر واقع آچے میں جہاں پچھلے دنوں بحر ہند کی سونامی لہروں سے بندہ آچے اور میلابو کی بندر گاہوں سمیت متعدد شہر یکسر مسمار ہوگئے اور پچاس ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے ، انیس سو چہتر سے یہاں کے عوام انڈونیشیا سے آزادی کے حصول کی مسلح تحریک چلارہے ہیں اور انڈونیشیا کی فوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آچے جو نانگرو آچے دارالسلام بھی کہلاتا ہے اٹھاون ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے- اس میں ایک سو انیس جزیرے ہیں ، بہتر بڑے دریا ہیں اور دو نہایت خوبصورت جھیلیں ہیں۔ آچے انڈونیشیا کا باب الاسلام کہلاتا ہے کیونکہ یہاں آٹھویں صدی میں عرب تاجروں نے مقامی باشندوں کو اسلام سے متعارف کرایا۔ بہت سے عرب تاجر یہیں آباد ہو گئے اور آٹھویں صدی کے آخر میں یہاں پہلی اسلامی سلطنت قایم ہوئی- سترویں صدری میں آچے میں سلطان اسکندر مداکی سلطنت پورے جنوب مشرقی ایشیا میں طاقت ور سلطنت تھی۔
آ چے اپنی طاقت ور ملکاؤں کی وجہ سے بھی خاصا مشہور رہا ہے- سن سولہ سو اتاڑلیس سے سن سترہ سو تک آچے پر لگاتار چار ملکاؤں کی حکمرانی رہی ہے۔ سولہویں صدی میں ایڈمرل کومالا حاجتی آچے کی ممتاز امیر البحر تھیں جن کے بحری بیڑے سے یہ پورا علاقہ کانپتا تھا- – سن سولہ سو اکتالیس میں سلطان اسکندر ثانی کے انتقال کے بعد البتہ آچے کی سلطنت کی طاقت اور اس کا اثر بتد ریج رو بہ زوال رہا اور آخر کا برطانوی اور ولندیزی نو آباد کاروں نے اس پر قبضہ کر لیا- اٹھارہ سو بائیس میں برطانیہ نے اپنے مقبوضہ علاقے ولندیزیوں کے حوالے کردئے اور یہاں سے پسپا ہو گئے۔ دنیا کی طویل ترین جنگ آچے کے عوام نے اپنے وطن کی آزادی کے لئے اٹھارہ سو تہتر میں ولندیزیوں کے خلاف جنگ شروع کی جو دنیا کی طویل ترین جنگ شمار ہوتی ہے- یہ جنگ سن انیس سو بیالیس تک جاری رہی۔
سن انیس سو پینتالیس میں جب مسلح جدوجہد کے بعد انڈونیشیا ولندیزی غلامی سے آزاد ہوا تو آچے انڈونیشیا کا حصہ بنا لیکن اس کو ملک کا خصوصی خودمختاری کا علاقہ قرار دیا گیا۔ لیکن آزادی کے آٹھ سال بعد ہی اسے شمالی سماترا کے صوبے میں ضم کردیا گیا اور اس کی خصوصی خودمختاری ملیا میٹ ہوگئی- اس صورت حال کے خلاف آچے کے عوام نے پہلے تو پر امن تحریک چلائی لیکن جب سوہارتو کی حکومت نے اس تحریک کو فوج کے طاقت کے بل پر کچلنا شروع کیا تو سن چہتر میں حسن تیرو کی قیادت میں آچے کے عوام نے آزادی کا اعلان کردیا اور مسلح جدو جہد شروع ہوئی۔
آچے کی آبادی بیالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں اکثریت عرب نژاد افراد ہیں – ان کے رسم و رواج اور زبان بھی انڈونیشیا کی ثقافت اور انڈونیشی بھاشا سے مختلف ہے۔ وجہ تنازعہ ؟ وہی تیل کے ذخائر۔ انڈونیشیا کی حکومت آچے کے عوام کی آزادی کی تحریک کو کچلنے پر اس لئے اٹل ہے کہ یہاں یہ علاقہ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہے۔ موبل آئیل انکارپوریشن امریکا اور انڈونیشیا کی سرکاری تیل کمپنی پرتامینا آچے کے لوکسیو ماوے کے علاقے میں سن انیس سو پینسٹھ سے تیل اور گیس نکال رہی ہیں۔ آچے کے عوام اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ آچے کے تیل اور گیس سے انڈونیشیا کی حکومت کو پندرہ ارب ڈالر سالانہ کی آمدنی ہوتی ہے لیکن اس میں سے آچے کو ایک فی صد بھی رقم نہیں ملتی۔ امریکا کا آچے میں مفاد خاص طور پر اس کے تیل کی دولت سے وابستہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ آچے میں انڈونیشیا کے فوج کی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اس نے دھیان نہیں دیا ہے۔ آچے کی اہم جغرافیائی اور فوجی حیثیت کی وجہ سے بھی امریکا اس طرف اپنی آنکھیں موندھے ہوئے ہے اور انڈونیشیا اسی بناء پر آچے پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ آچے آبنائے ملاکا پر واقع ہے جو مشرق بعید آنے جانے والے جنگی اور تیل بردار جہاز وں کی اہم گذر گاہ ہے اور یہ مغرب سے آسڑیلیا ، چین اور جاپان جانے والا واحد بحری راستہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||