آچے، سری لنکا میں کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونامی سے متاثرہ صوبے آچے میں موجود انڈونیشیا کے فوجیوں کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند باغیوں کے حملوں سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں۔ اس صوبے میں طویل عرصے سے کشیدگی جاری تھی لیکن سونامی کی تباہی کی وجہ سے وہاں فریقین کی جانب سے فائربندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے انڈونیشیا کی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے امدادی کارروائیوں کے لئے دیے جانے والے امریکی فوجی ساز و سامان کا استعمال علیحدگی پسندوں کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان جمعہ کو آچے پہنچنے والے ہیں۔ آچے کا علاقہ جزیرۂ سماٹرا کے شمال میں واقع ہے جو سونامی سے سب سے زیادہ متاثر تھا۔ ایک درجن ملکوں میں سونامی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے اور لاکھوں بے گھر ہیں۔ صوبے آچے کے دارالحکومت بندا آچے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے فوجیوں نے شکایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے دوران باغیوں نے ان پر حملے کیے ہیں۔ سونامی میں ہزاروں فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے لیکن اب بھی بندا آچے اور اس کے اطراف کی سڑکوں پر انڈونیشیا کے فوجیوں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔ صوبے میں علیحدگی پسند تحریک فری آچے موومنٹ برسوں سے سرگرم ہے۔ علیحدگی پسند باغیوں اور فوجیوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے امدادی ایجنسیوں کو بندا آچے سے باہر صوبے کے دوسرے علاقوں میں امداد پہنچانے میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سونامی کے بعد سے انڈونیشیا کی فوج نے غیرملکیوں کو اس علاقے میں مکمل آزادی سے کام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ لیکن اگر حالات خراب ہوئے تو فوج غیرملکیوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابندی عائد کرسکتی ہے۔ سری لنکا میں کشیدگی تامل باغیوں نے، جن کا ملک کے شمال مشرقی علاقے پر کنٹرول ہے، سری لنکا کی حکومت پر تنقید کی ہے کہ وہ علاقے میں ناکافی امداد فراہم کررہی ہے۔ کولن پاول اور کوفی عنان سری لنکا کے مشرقی اور جنوبی ساحل کے بعض ان علاقوں کا دورہ کریں گے جو سونامی سے بڑے پیمانے پر متاثر ہوئے۔ کوفی عنان حکومت کے عہدیداروں سے ملیں گے اور جنوبی شہر گیل میں ریڈ کراس کے ایک امدادی کیمپ جائیں گے۔ بی بی سی کی نامہ نگار فرانسیس ہیریسن کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سونامی کی تباہی سے سری لنکا میں نسلی بنیادوں پر ہونے والی لڑائی ختم ہونے کے بجائے پھر سے تیز ہوجائے گی۔ دریں اثناء سری لنکا کی حکومت نے ملک میں بچوں کو گود لینے پر پابندی عائد کردی ہے تاکہ سونامی سے یتیم ہونے والے بچوں کو جرائم پیشہ افراد سے دور رکھا جاسکے۔ امداد اور عالمی کانفرنس عنان نے امدادی ملکوں سے اپیل کی کہ جو چار بلین ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں سے فوری طور پر ایک بلین ڈالر فراہم کی جائے۔ ایک بلین ڈالر کے امدادی پروگرام میں دوسو پندرہ ملین ڈالر غذا کے لئے، دو سو بائیس ملین ڈالر جھونپڑیاں بنانے کے لئے اور ایک سو بائیس ملین ڈالر صحت کے لئے مخصوص ہے۔ عنان کی اپیل پر جاپان نے فوری عمل کرتے ہوئے ڈھائی سو ملین ڈالر فراہم کیے جبکہ جاپان نے کل پانچ سو ملین ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔
|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||