BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 January, 2005, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زاؤ: اصلاح پسند کمیونسٹ رہنما
 زاؤ ژیانگ (2005-1919)
زاؤ ژیانگ (2005-1919)
چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق رہنما زاؤ ژیانگ، جو پچاسی سال کی عمر میں سترہ جنوری کو وفات پاگئے، ملک میں اصلاحات کی حمایت کرنے والے اہم رہنماؤں میں تھے۔

ان کی پیدائش انیس سو انیس میں چین کے مرکزی صوبے ہنان میں ایک امیر زمیندار کے گھر میں ہوئی تھی۔ انہوں نے انیس سو بتیس میں نوجوانوں کی تنظیم کمیونسٹ یوتھ لیگ کی رکنیت حاصل کی۔

انیس سو سینتیس سے انچاس کی جنگِ آزادی کے دوران وہ کمیونسٹ پارٹی کے اہلکار کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور انیس سو اکاون میں صوبے گوانگ دانگ میں کمیونسٹ پارٹی میں وہ معروف ہوئے۔

انہوں نے زراعتی اصلاحات کا آغاز کیا اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی میں کام کیے بغیر صوبے کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے والے پہلے شخص بنے۔ لیکن انیس سو ساٹھ کے عشرے میں ماؤ زے تنگ سے ان کے اختلاف پیدا ہوگئے۔

ماؤ کے پیروکاروں کا خیال تھا کہ انہوں نے سرمایہ کارانہ اصلاحات کی خاطر کمیونزم کے نظریے کو نظرانداز کیا۔ ماؤ کے ثقافتی انقلاب کے دوران زاؤ ژیانگ کو ایک 'بدُھو‘ شخص کی ٹوپی پہناکر گوانگژو کی سڑکوں پر پھرایا گیا اور انہیں ’زمیندار طبقے کی باقیات‘ قرار دیا گیا۔

لیکن انیس سو تہتر میں چواین لائی نے انہیں صوبے سیچوان کا منتظم بناکر بھیجا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب ماؤ کی اقتصادی پالیسیاں ناکام ہورہی تھیں اور صوبے میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال تھی۔ حالات اتنے خراب تھے کہ کسان راشن کارڈ کے لیے اپنی لڑکیوں کو فروخت کررہے تھے۔

احتجاج کرنے والے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے
احتجاج کرنے والے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے

زاؤ ژیانگ نےصوبے کی معیشت میں کافی تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے صرف تین برسوں میں صنعتی پیداوار میں اکیاسی فیصد اور زراعتی پیداوار میں پچیس فیصد کا اضافہ ہوا۔ ان کامیابیوں کی وجہ سے ڈینگ ژیاؤپِنگ کی نظر زاؤ ژیانگ پر پڑی۔ ڈینگ ژیاؤپِنگ ماؤ کے انتقال کے بعد چینی سیاست میں اہم رہنما کی حیثیت سے ابھر چکے تھے۔

ڈینگ ژیاؤپِنگ کو لگا کہ زاؤ ژیانگ نے جو کامیابی حاصل کی ہیں ان پر پورے ملک میں عمل کیا جاسکتا ہے۔ لہذا زاؤ ژیانگ کو انیس سو ستتر میں کمیونسٹ پارٹی کے پولِٹ بیورو میں شامل کرلیا گیا۔ بعد میں زاؤ ژیانگ نے ملک کے نائب وزیراعظم کی حیثیت سے چھ ماہ تک خدمات انتظام دیں اور پھر انہیں انیس سو اسی میں وزیراعظم بنادیا گیا۔

بعد میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ ڈینگ کی پالیسی کے تحت زاؤ ژیانگ کی ذمہ داری چین کو سن دوہزار تک ایک جدید جمہوری سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے پیداوار بڑھانے کے لیے اقتصادی اصلاحات شروع کیں۔ بھاری صنعت میں کامیابی نہیں ملی، لیکن زراعت اور چھوٹی صنعتوں میں کافی کامیابی حاصل ہوئی۔

زاؤ ژیانگ نے ملک کی نوکر شاہی اور معیشت میں کرپشن کے خاتمے کے لیے اصلاحات شروع کی۔ انہوں نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات ہموار کیے اور امریکہ کے ساتھ چین کی تجارت میں دس گنا اضافہ ہوا۔ امریکی کمپنیوں کی چین میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جانے لگا۔ زاؤ ژیانگ نے انیس سو چوراسی میں برطانیہ اور امریکہ کا دورہ کیا۔

لیکن انیس سو اناسی میں زاؤ ژیانگ کو دارالحکومت بیجنگ کے تائنامن سکوائر میں احتجاج کرنے والوں طالب علموں کے لیے ہمدردی رکھنے کے ’جرم کی پاداش‘ میں حکومت کے تمام عہدوں سے برخاست کر دیا گیا۔ بی بی سی کی نامہ نگار لوئزا لِم کے مطابق زاؤ ژیانگ کی زندگی کو ان کے ایک ہی عمل سے بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ یہی تھا ان کا تائنامن سکوائر میں بھوک ہڑتال کرنے والے طالبِ علموں سے منہ اندھیرے ملنے جانا۔ انہوں نے طالبِ علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں معاف کردو، میں کافی دیر سے آیا ہوں۔‘

اس واقعے کے بعد زاؤ ژیانگ سولہ برس تک زیرحراست رہے۔ چین کی کمیونسٹ حکومت یہ سمجھتی رہی کہ وہ سیاسی مخالفین اور اصلاح پسندوں کے علمبردار بن سکتے ہیں۔ اور آج کی حکومت بھی اس بات پر فکرمند ہے کہ کہیں وہ مرنے کے بعد اصلاح پسندوں کے علمبردار نہ بن جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد