چین امریکہ سے ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ تائیوان کے ساتھ ایک سودا کر رہا ہے جسکے تحت اٹھارہ ارب ڈالر مالیت کے نئے ہتھیار تائی وان کو فراہم کئے جائیں گے۔ چین ماضی میں بھی اس طرح کے معاہدوں پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتا رہا ہے کیونکہ وہ تائیوان کو اپنا ایک باغی صوبہ قرار دیتا ہے لیکن اس بار چینی صدر کا خود صدر جارج بش کو فون کرنا ظاہر کرتا ہے کہ چین کا غصہ کتنا شدید ہے۔ چینی صدر نے فون پر انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تائی وان کو چین سے الگ کرنے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تائی وان میں جب سے آزادی کا نعرہ لگانے والے صدر چن شُوئی بیان دوبارہ منتخب ہوئے ہیں چین اور تائی وان میں باہمی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور اب صدر شوئی بیان کا امریکی اسلحہ خریدنے کا فیصلہ اس جلتی پر تیل کا کام کر سکتا ہے۔ صدرِ تائی وان اٹھارہ ارب ڈالر مالیت کے نئے طیارے، میزائل اور آبدوزیں امریکہ سے خریدنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ صدر بش وضاحت کر چکے ہیں کہ امریکہ تائی وان کی علیحدگی نہیں چاہتا لیکن چین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں تائی وان کو جدید ترین اسلحہ فراہم کرنا کسی اور ہی جانب اشارہ کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||