چین: بدعنوانی سے کیسے بچیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں ان خدشات پر بات چیت ہوگی کہ بدعنوانی کی صورتِ حال سے کیسے نمٹا جائے۔ ایک سو اٹھانوے ارکان پر مشتمل ایلیٹ سینٹرل کمیٹی چار روزہ اجلاس کے دوران پارٹی کے اقتدار کے انداز کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز مرتب کرے گی۔ یہ اجلاس بند کمرے میں ہوگا۔ چین میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ ملک میں فوج کے سربراہ جیانگ زمن اور صدر ہوجن تاؤ کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ گزشتہ روز ہوجن تاؤ نے ایک تقریر میں مغربی طرز کی سیاسی اصلاحات کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی سیاسی نظام کے اتباع میں چین اس راستے پر چل پڑے گا جس کی کوئی منزل نہیں مل سکے گی۔ ہوجن تاؤ چاہتے ہیں کہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور حکمران جماعت عوامی امنگوں سے زیادہ نزدیک ہوجائے اور عوامی ضروریات کو پورا کرے۔ لیکن تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ انہوں نے وسیع پیمانے کی سیاسی اصلاحات میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔ اس میٹنگ سے پہلے پولیس نے انصاف حاصل کرنے کی غرض سے بیجنگ آنے والے ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ اتنے زیادہ لوگوں کا بیجنگ میں شکایتیں لیکر آنا اور بالخصوص عدالتوں کے خلاف آواز اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی رہنماؤں کو سخت چیلنج درپیش ہے۔ پارٹی کا یہ اجلاس جو انیس ستمبر کو شروع ہوگا اس لیے بھی اہم ہے کہ چہ مگوئیاں ہیں کہ کیا سابق صدر جیانگ زمن ملٹری کمیشن کا عہدہ چھوڑیں گے یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||