BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 January, 2005, 02:09 GMT 07:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زاؤ ژیانگ:موت کے بعد رہائی
زاؤ ژیانگ
زاؤ ژیانگ تائنامن سکوائر میں طالب علموں سے اپیل کر رہے ہیں
اطلاعات کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سابق رہنما زاؤ ژیانگ وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر پچاسی سال تھی۔

ان کے خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق سابق رہنما کا انتقال چین کے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوا۔ ذرائع کے مطابق زاؤ ژیانگ کو جمعہ کو فالج کے دورے پڑے تھے اوراس کے بعد سے ان کی حالت خراب تھی۔

زاؤ ژیانگ کو 1989 میں تائنامن سکوائر میں احتجاج کرنے والوں کے لیے ہمدردی رکھنے کے ’جرم کی پاداش‘ میں ان کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے اس کے بعد اپنی زندگی کے آخری پندرہ سال نظر بندی میں گزارے۔

بی بی سی کی نامہ نگار لوئزہ لم کے مطابق زاؤ ژیانگ کی زندگی کو ان کے ایک ہی عمل سے بیان کیا جا سکتا ہے اور وہ تھا ان کا تائنامن سکوائر میں بھوک ہزتال کرنے والے طالبِ علموں سے منہ اندھیرے ملنے جانا۔ انہوں نے طالبِ علموں کو اس بات پر راضی کرنے کی بہت کوشش کی کہ وہ اپنا مورچہ ختم کر دیں۔

کچھ گھنٹوں کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا اور فوجی بیجنگ کی سڑکوں پر آ گئے۔ اس کے ساتھ ہی زاؤ ژیانگ کو کمیونسٹ پارٹی کے رہنما کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

زاؤ ژیانگ 1919 میں پیدا ہوئے، 1980 میں ملک کے وزیرِ اعظم بنے اور سات برس بعد کمیونسٹ پارٹی کے رہنما بنا دیئے گئے۔ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں بڑی انقلابی اقتصادی اصلاحات کیں۔ انہوں نے سیاسی اصلاحات کی بھی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد