حکومت ہراساں کر رہی ہے: مختارمائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین برس قبل پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کے کچھ حالیہ اقدامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت انہیں انصاف کے حصول کی جدوجہد سے روکنا چاہتی ہے۔ جمعہ کے روز مظفر گڑھ کے گاؤں میروالہ سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختار مائی نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے چند روز قبل انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کردیا گیا ہے اور اب وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ایک پولیس افسر مقبول احمد ان کا پاسپورٹ لے گۓ اور فوٹو کاپیاں کرانے کے بعد لوٹایا۔ مختار مائی کا کہنا تھا کہ پچھلے دس روز سے بیس کے قریب پولیس اہلکار جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں ان کی نگرانی پر مامور ہیں۔ مختاراں مائی نے کہا کہ ان کو زچ کرنے کے لیے پولیس کی خواتین اہلکار سائے کی طرح ان سے چمٹی ہوئی ہیں اور حتکہ غسل خانے میں بھی ساتھ رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل عذرا کا کہنا تھا کہ انہیں مختار مائی کی حفاظت پر مامور کیا گیا ہے اور وہ اس ڈیوٹی کو سرانجام دینے کے لیے ہر وقت ان کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔ مختار مائی نے مزید بتایا کہ ان کی ڈیوٹی پر مامور پولیس کی نفری کو تین وقت کا کھانا کھلانا بھی ان کی ذمہ داری ہے اور پولیس چوکی کو بجلی کی فراہمی کا بوجھ بھی ان پر ہے۔ پولیس چوکی کے انچارج سب انسپکٹر جعفر حسین نے کہا کہ چوکی بھی مختار مائی کی ہے اور بجلی اور کھانا پینا بھی انہیں کا۔ مختار مائی کا کہنا تھا کہ عملی طور پر ان کے میروالہ سے باہر جانے پر پابندی ہے۔ جمعرات کے روز جب انہوں نے لاہور جانے کی کوشش کی تو انہیں زبردستی روک دیا گیا۔ مختار مائی کا کہنا تھا کہ وہ لاہور جا کر اپنے وکیل اعتزاز احسن سے ملنا چاہتی تھیں ۔ مختار مائی کے مطابق چند روز قبل وفاقی حکومت کی ایک جماعت نےمیروالہ کا دورہ کیا اور اس دوران انہیں ہدایت کی کہ وہ صحافیوں اور این جی اوز کی نمائندوں سے رابطہ کم کریں کیونکہ ملکی اور بین القوامی میڈیا میں ان کے بیان آنے سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب اقدامات سےانہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور وہ ایک آزاد شہری کے طور پر نہیں رہ پا رہیں۔ مختار مائی نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود وہ انصاف کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ مظفر گڑھ کے قائم مقام ضلعی پولیس افسر ملک لیاقت کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات مختار مائی کی حفاظت کے لیے ہیں ۔ تاہم ملزموں کی رہائی کے بعد مختار مائی پریشان ہیں اور اسی لیۓ ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||