’جدوجہد جاری رکھوں گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختاراں مائی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گاؤں میں اپنا سکول بدستور چلاتی رہیں گی۔ اس سکول میں ڈھائی سو لڑکیاں اور ڈیڑھ سو لڑکے زیر تعلیم ہیں۔ جنوبی پنجاب کےگاؤں میر والا میں پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث افراد کی رہائی کے بعد ان کی جان کو خطرہ ہے اور وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل کرتی ہیں کہ ان افراد کو دوبارہ حراست میں لیا جائے۔ مختاراں مائی نے اس موقع پر ان افراد کی رہائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے پڑھے لکھے نہیں تھے مگر ان افراد کو رہا کرنے والے پڑھے لکھے ہیں جس سے ان کو صدمہ پہنچا ہے۔ مختاراں مائی نے کہا کہ انہوں نے اپنے گاؤں کے تھانے میں رہائی پانے والے ان افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹوائی ہے جس میں پولیس سے ان افراد کو دوبارہ حراست میں لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ مختاراں مائی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی رکن قومی اسمبلی کشمالہ طارق نے کہا کہ وہ مختاراں مائی کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ سے ملاقات کریں گی جس میں مختاراں مائی کیس کے مبینہ ملزمان کو ایم پی او کے تحت گرفتار کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||