مختار مائی کیس، ملزمان پھر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرگڑھ پولیس نے مختار مائی اجتماعی جنسی زیادتی کیس میں ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے بری ہونے والے آٹھ میں سے چھ ملزموں کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے ۔ حراست میں لیے گۓ ملزمان کے نام محمد اسلم، اللہ ڈتہ، حضور بخش، رسول بخش، قاسم اور نذر حسین معلوم بتائے گئے ہیں۔مظفرگڑھ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو حفاظتی حراست میں لیاگیا ہے جبکہ باقی دو ملزموں خلیل اور غلام حسن کی تلاش جاری ہے۔ مختار مائی کیس میں پولیس نے جولائی دو ہزار دو میں کل چودہ افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان پیش کیا تھا۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں چھ ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ باقی آٹھ کو بری کردیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا پانے والوں میں سے پانچ کو بھی چند روز قبل لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے بری کر دیا تھا۔ لیکن گذشتہ روز فیڈرل شریعت کورٹ نے مختار مائی کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے ان ملزموں کے بھی سمن جاری کیے ہیں جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بری کردیا تھا۔
مظفرگڑھ میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں وفاقی حکومت کی طرف سےکہا گیا ہے کہ ملزموں کو حراست میں لے لیا جائے۔ حکام کا کہنا کہ اس بات کا فیصلہ شریعت کورٹ کا تحریری حکم سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا کہ حراست میں لیے گئے ملزموں کو ضمانتی مچلکے لینے کے بعد رہا کر دیا جائے یا انہیں شریعت کورٹ کے سامنے پیش ہونے تک حفاظتی حراست میں رکھا جائے تاکہ بوقت ضرورت انہیں تلاش نہ کرنا پڑے۔ ادھر لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے بری کیے گئے پانچ ملزمان کی رہائی کا حکم ٹرائل کورٹ یعنی ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمعہ کو پہنچ گیا تھا جہاں سے کاغذی کارروائی کے بعد اسے ڈیرہ کی سنٹرل جیل کے حکام کو بھجوایا جانا تھا کہ شریعت کورٹ کا حکم سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق دو مختلف عدالتوں کی طرف سے متضاد احکامات کی وجہ سے انسداد دہشت گردی کی عدالت سنیچر کے روز تک فیصلہ نہ کر پائی تھی کہ ملزموں کی رہائی کا حکمنامہ جیل حکام تک بھیجا جائے یا نہیں۔ ملتان میں قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ اور شریعت کورٹ کے متضاد احکامات سے ایک عدالتی بحران پیدا ہوگیا ہے کیونکہ دونوں عدالتوں کو بظاہر ہم پلہ سمجھا جاتا ہے اور دونوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں ہی کے جاتی ہے۔
تاہم شریعت کورٹ نے آئین پاکستان کی جس شق DD-203 کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ازخود نوٹس لیا ہے اس میں شریعت کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی فوجداری عدالت کے فیصلوں پر ایکشن لے سکتی ہے جس نے حدود آرڈیننس کے تحت کسی بھی مقدمے کو سنا ہو۔ ہائی کورٹ کے جس بنچ نے مختاراں مائی کیس میں پانچ ملزموں کی رہائی کا حکم سنایا ہے اس نے پنے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں اپنے دائرہ کار کا تعین کرتے ہوئے اس نقطہ پر بحث کی تھی کہ حدود آرڈیننس کے مقدمات میں آئین کی رو سے تو ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل صرف شریعت کورٹ میں ہی کی جا ہے لیکن ایک مثال موجود ہے کہ سپریم کورٹ نے اجتماعی زیادتی کے ایک مقدمے میں ہائی کورٹ کو بھی اپیل سننے کا اختیار دیا تھا۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب دیکھا یہ جائے گا کہ ہائی کورٹ اور شریعت کورٹ کے درمیان دائرہ اختیار کی کشمکش میں آئین کو اہمیت دی جاتی ہے یا کہ مثال کو۔ دریں اثنا ملتان کے ایک وکیل مصطفیٰ چوہان نے لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ میں مختار مائی اور خواتین و انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے تیرہ کارکنوں کے خلاف توہین عدالت کی درخواست داخل کی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ سے مختار مائی کیس کے پانچ ملزموں کے بری ہونے کے خلاف مظاہرے اور تنقید کرکے مختار مائی اور تیرہ دیگر افراد نے عدالت کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہائی کورٹ اس درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے فیصلہ پندرہ مارچ کو کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||