مختاراں کی سپریم کورٹ میں اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے تین مارچ کے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دے جس میں اس کیس کے چھ میں سے پانچ ملزمان کو رہا کر دیا گیا تھا۔ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر کی گئی ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیئر وکیل اعتزاز احسن نے مختاراں مائی کی طرف سے یہ درخواست دائر کی ہے۔ اس موقع پر مختاراں مائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ سپریم کورٹ انہیں انصاف دلائے گا اور ان کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سزا ملے گی۔ ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی پانے والے ملزمان کو گزشتہ ہفتے وزیر اعظم شوکت عزیز کی براہ راست مداخلت کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے تین مارچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے طرف سے چھ میں سے پانچ ملزمان کو دی گئی سزا ختم کر کے انہیں بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔ اس فیصلے پر انسانی حقوق اور عورتوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ خود مختاراں مائی نے کہا تھا کہ انہیں اس فیصلے نے بہت دکھ پہنچایا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے گیارہ مارچ کو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے پنچائت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی مختاراں مائی کے ملزمان کی رہائی کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اب سپریم کورٹ اس فیصلے کی سماعت کرے گی۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے اس مقدمے کا ریکارڈ ایک ہفتے کے اندر طلب کر لیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت اگلے ہفتے سے شروع ہو رہی ہے۔ مختاراں مائی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس قانونی نکتے کو مد نظر نہیں رکھا کہ ایسے مقدمات میں صرف زیادتی کا نشانہ بننے والی کی گواہی کافی ہوتی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختاراں مائی کے ساتھ بہت ناانصافی ہوئی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے درخواست گزار کو بہت رنج پہنچا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||