BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 March, 2005, 13:37 GMT 18:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختار مائی کیس: ملزمان پھر گرفتار

مختارمائی
مختارمائی نے ان افراد کی رہائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا
وزیرِاعظم شوکت عزیز کی براہ راست مداخلت کے بعد پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کے گاؤں میر والا میں پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کیس کے ملزمان کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

ان ملزمان کو منگل کے روز رہا کیا گیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز اس معاملے کی صورتحال سے واقف ہیں اور اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

وزیرِاعظم نے جمعرات کو مختاراں مائی سے ملاقات کی اور ان کو اپنا سکول چلانے پر سراہا اور اس سلسلے میں کو حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے تین مارچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے طرف سے چھ میں سے پانچ ملزمان کو دی گئ سزا ختم کر کے انہیں بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔

اس فیصلے پر انسانی حقوق اور عورتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ خود مختار مائی نے کہا تھا کہ انھیں اس فیصلے نے بہت دکھ پہنچایا ہے۔

مختار مائی نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا تھا اور اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے مختار مائی کا کیس لڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

ساتھ ہی پاکستان کی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے گیارہ مارچ کو لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے پنچائت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی مختاراں مائی کے ملزمان کی رہائی کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اب سپریم کورٹ اس فیصلے کی سماعت کرے گی۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے اس مقدمے کا ریکارڈ ایک ہفتے کے اندر طلب کر لیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت اگلے ہفتے سے شروع ہو رہی ہے۔

مختار مائی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کے ساتھ زیادتی میں ملوث افراد کی رہائی کے بعد ان کی جان کو خطرہ ہے اور وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل کرتی ہیں کہ ان افراد کو دوبارہ حراست میں لیا جائے۔

اس سلسلے میں انہوں نے اپنے گاؤں کے تھانے میں ان رہائی پانے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹوائی ہے جس میں پولیس سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ان افراد کو دوبارہ حراست میں لے لے۔

مختارمائی نے ان افراد کی رہائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والے پڑھے لکھے نہیں تھے مگر ان افراد کو رہا کرنے والے پڑھے لکھے ہیں جس سے ان کو صدمہ پہنچا ہے۔

مختارمائی نے کہا کہ وہ بدستور اپنے گاؤں میں اپنا سکول چلاتی رہیں گی جس میں ڈھائی سو لڑکیاں اور ڈیڑھ سو لڑکے زیر تعلیم ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد