مختار مائی کیس کےچار ملزمان رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی اجتماعی زیادتی کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے بری کیے گئے پانچ میں سے چار ملزموں کی رہائی کے بعد مظفرگڑھ کے گاؤں میر والہ میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے علاقے میں پولیس کی نفری میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ مظفر گڑھ کے ضلعی پولیس افسر احسن محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ میر والہ میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے وہاں تیس سے زائد پولیس اہلکار امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں پولیس کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے اور صورتحال ایسی ہے کہ اس میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جا سکتی۔ ضلعی پولیس افسر کا کہنا تھا کہ مختار مائی نے حکومت سے ایک تحریری درخواست کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ سے رہا کیے گئے ملزمان کو اس وقت تک حراست میں رکھا جائے جب تک سپریم کورٹ ان کے مقدمے کا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں صوبائی محکمہ داخلہ کے احکامات کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختار مائی کیس میں ڈیرہ غازی خان کی خصوصی عدالت سے رہا کیے گئے آٹھ ملزمان کو حال ہی میں مختار مائی کی درخواست پر مظفر گڑھ جیل میں نظربند کیا گیا ہے۔ مختار مائی کیس میں پولیس نے جولائی دو ہزار دو میں کل چودہ افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان پیش کیا تھا۔ تاہم عدالت نے اسی سال اگست میں مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چھ ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ باقی آٹھ کو بری کردیا تھا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے چند روز قبل پانچ مزید ملزموں کو بری کر دیا جبکہ چھٹے کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی تھی۔ مختار مائی اس صورتحال سے خاصی مایوس ہیں۔ تاہم وہ حصول انصاف کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد بھی اعلان کرچکے ہیں کہ حکومت لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ تاہم ان کے بیان کے بعد اس ضمن میں حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||