مختار مائی کیس اب سپریم کورٹ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پیر کو جنوبی پنجاب کےگاؤں میر والا میں پنچایت کے حکم پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے دو متضاد فیصلوں پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا اب سپریم کورٹ اس فیصلے کی سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں تمام ملزمان کے قابلِ ضمانت وارنٹ اور ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے اس مقدمے کا ریکارڈ ایک ہفتے کے اندر طلب کر لیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی سپریم کورٹ میں سماعت کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کیس میں انسداد دہشتگردی عدالت نے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی مگر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس سال تین مارچ کو چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔ پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔خود مختار مائی نے اس فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ گیارہ مارچ کو وفاقی شرعی عدالت نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور ملزمان کی سزائیں بحال کرتے ہوئے ان سات ملزمان کو بھی طلب کر لیا تھا جنہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے یہ فیصلہ معطل کرتے ہوئے آئین اور قانون کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا۔ عدالت کے مطابق وفاقی شریعت کورٹ کو اختیار نہیں تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتی۔ سپریم کورٹ کے مطابق اس کیس میں لاہور ہائی کورٹ میں دائر مختار مائی اور غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں نے اس معاملے کو مزید ہوا دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||