مختار مائی کیس، رہائی روک دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی اجتماعی جنسی زیادتی کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے بری کیے گۓ پانچ ملزموں کی ڈیرہ غازی خان سنٹرل جیل سے رہائی پیر کے روز عین وقت پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر روک دی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کی ملتان شاخ کے ایک ڈویژن بنچ نے تین مارچ کو مختار مائی کیس میں موت کی سزا پانے والے چھ میں سے پانچ ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم بعد میں فیڈرل شریعت کورٹ نےہائی کورٹ کے فیصلے کو یہ کہہ کر کالعدم قرار دے دیا کہ ہائی کورٹ کو اس کیس میں اپیل سننے کا اختیار ہی نہ تھا۔ لیکن پیر کے روزاس وقت ڈرامائی صورتحال بن گئی جب ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی مانتے ہوۓ بری کیے گۓ ملزموں کی رہائی کے حکمنامےجنہیں قانونی زبان میں روبکار کہتے ہیں ڈیرہ سنٹرل جیل بھجوا دیے۔ جیل حکام کے لیے یہ ایک مشکل صورتحال تھی کیونکہ شریعت کورٹ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر چکی تھی جبکہ سیشن جج ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ملزمان کی رہائی چاہتے تھے۔ رابطہ کیا گیا تو جیل سپرنٹنڈنٹ کاظم بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ سیشن جج کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ چنانچہ جیل حکام نے ملزمان فیض محمد، رمضان پچار، اللہ ڈتہ، فیاض اور غلام فرید کی رہائی کے انتظامات شروع کر دیے تھے اور ان سب کو کال کوٹھڑیوں سے عام بیرکوں میں منتقل بھی کر دیا گیا تھا۔ جیل کے باہر رہا کیے جانے والے ملزموں کےعزیزواقارب استقبال کے لیے ایک بڑی تعداد میں اکھٹے تھے جب اچانک خبر ملی کے ہائی کورٹ سے بری کیے گۓ ملزمان کی رہائی نہیں ہورہی۔ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اختر حسین رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر مبنی ایک فیکس موصول ہوا ہے جس کے تحت ہائی کورٹ کی طرف سے ملزموں کی رہائی کے فیصلے اور شریعت کورٹ کے ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ازخود نوٹس پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||