BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 June, 2005, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختاراں مائی کیس کے ملزماں رہا

مختاراں مائی
مختاراں مائی کیس کے ملزمان کی حراست میں وزیر اعظم کے حکم پر توسیعی کر دی گئی تھی
لاہور ہائی کورٹ نے مختاراں مائی گینگ ریپ میں گرفتار بارہ ملزموں کی رہائی کا حکم دیا ہے اور ان کی نظر بندی کے احکامات میں توسیع نہیں کی ہے۔

ان ملزمان کو تین مہینے پہلے ہائی کورٹ نے فوجداری الزمات سے بری کر دیا تھا لیکن وزیر اعظم شوکت عزیز کی ہدایات پر وسط مارچ میں انہیں ایک بار پھر امن وعامہ کے قانون سولہ ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیاگیا تھا۔

جمعہ کو ان کی گرفتاری کو تین مہینے پورے ہونے کے بعد صوبائی محکمہ داخلہ نے لاہور ہائی کورٹ کےنظرثانی بورڈ کے روبرو انہیں پیش کیا اور ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس میاں نجم الزمان، جسٹس ایم بلال، اور جسٹس شیخ عبدالرشید پر مشتمل تین رکنی نظر ثانی بورڈ نے ان کی نظر بندی میں توسیع سے انکار کر دیا۔

مختار مائی کیس میں پولیس نے جولائی دو ہزار دو میں کل چودہ افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان پیش کیا تھا۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں چھ ملزموں کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ باقی آٹھ کو بری کردیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا پانے والوں میں سے بھی پانچ کو مارچ میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے بری کر دیا تھا۔

جبکہ ایک ملزم کی سزا ۓ موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
مارچ میں اس کیس کے ملزمان کی رہائی کے خلاف مختاراں مائی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے ۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ ان کے آزاد رہنے کی صورت میں مختاراں مائی یا ان کے خاندان کے افراد کو جان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے مختاراں مائی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد ان بارہ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ۔

انہیں پنجاب حکومت نے امن و عامہ کے قانون سولہ ایم پی او کے تحت گرفتار کیا تھا قانونی تقاضے کے تحت نوے دن بعدانہیں ریویو بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ۔

ہائی کورٹ کے نظر ثانی بورڈ کی جانب سے توسیع نہ ملنے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں آئندہ چند روز کے اندر رہا کیا جاسکتاہے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مختاراں مائی اور حکومت کی طرف سے دو الگ الگ اپیلیں اب سپریم کورٹ میں سماعت کی منتظر ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ مختاراں مائی کے وکیل خالد رمضان جوئیہ نے کہاکہ نظر بندی کی معیاد میں توسیع نہ کرنے کے حکم کا اپیلوں کی سماعت یا اس کے ممکنہ عدالتی فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

مختاراں مائی کیس کا انکشاف اب سے تین سال پہلے ہوا تھا اور کہا گیا تھا کہ پنجاب کے جنوبی ضلع مظفر گڑھ میں دیہی پنچائت کے ایک فیصلے کے نتیجے میں مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد