حدود قوانین کو بدلنا ہوگا: مشرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حدود قوانین کو اسلام کی روح کے مطابق ڈھالنے کے لیے ان میں تبدیلی کرنا ہوگی اور معاشرے میں تعلیم اور اعتدال پسندی کے ذریعے جنسی امتیاز ختم کرنا ہوگا جو ذہنوں کی تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔ اسلام آباد میں تین روزہ بین الاقوامی خواتین کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نےگزشتہ پانچ سالوں میں ملک کی خواتین کے حقوق اور ترقی کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چالیس ہزار سے زائد خواتین قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں موجود ہیں اوراپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون پاس کیا ہے تاکہ عورتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ صدر مشرف نے کہا کہ حکومت نے جنسی زیادتی کا شکار مختاراں مائی اور ڈاکٹر شازیہ کو بھی تحفظ فراہم کیا۔ تاہم صدر کا کہنا تھا کہ روایت پسند معاشرے میں قوانین کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی مگر ان قوانین کو نافذ کیے بغیر معاشرے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ صدر نے ان پاکستانیوں کی مذمت کی جو ان کے مطابق پاکستان کی ساکھ دنیا بھر میں خراب کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹائم میگزین میں مختاراں مائی کے بارے میں ایک پاکستانی نے آرٹیکل لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ سب پاکستان کے گردو نواح اور دنیا بھر میں کہیں نہیں ہوتا۔ صدر نے دعوٰی کیا کہ پاکستان کا جنسی امتیاز کے بارے میں ٹریک ریکارڈ کئی ترقی یافتہ ممالک سے بہتر ہے۔ صدر جنرل مشرف نے پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے کردار کو سراہا مگر کہا کہ ذرائع ابلاغ اور این جی اوز کو پاکستان کو ان معاشرتی برائیوں پر تنہا تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے جو تمام ترقی پذیر ممالک میں عام ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||