BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 March, 2005, 09:24 GMT 14:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھوٹی سی پسپائی یا ایک بڑی جیت

News image
نئے جاری ہونے والے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شائع کیا جائے گا۔
پاکستان حکومت کی جانب سے نئے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کے فیصلے پر جہاں معتدل سیاسی قوتیں تنقید کر رہی ہیں وہاں دانشور اور کچھ اخبار نویس اسے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کی پسپائی اور مذہبی جماعتوں کی کامیابی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

چوبیس مارچ کو وزیراعظم شوکت عزیز کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی تھی۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں جمعرات کے روز پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شیری رحمٰن اور حکمران مسلم لیگ کے اقلیتی رکن اسمبلی ایم پی بھنڈارا نے حکومتی فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی تھی۔

اس دوران مذہبی جماعتوں کے اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ کے بعض اراکین کے ساتھ ان کی گرما گرمی ہوئی اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ بھی کہے گئے تھے۔

انگریزی روزنامہ ’ڈیلی ٹائمز‘ نے پچیس مارچ کی اشاعت میں اپنے صفحہ اول پر جہاں کابینہ کے فیصلے کی خبر شائع کی ہے وہاں سخت الفاظ میں ’شوکت کی چھوٹی پسپائی ۔ قاضی کے لیے بڑی خوشی‘ کے عنوان سے اداریہ بھی صفحہ اول پر شائع کیا ہے۔

اداریے میں لکھا گیا ہے کہ اس سے لگتا ہے کہ اب بھی چہروں کے بجائے پیٹ میں داڑھی رکھنے والے حکمران مسلم لیگ اور انٹیلی جنس والے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کو چلا رہے ہیں۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وزارتی کمیٹی کی سفارشات اس ضمن میں منظور کی گئی ہیں اور اب نئے جاری ہونے والے پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شائع کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ اب تک جو پاسپورٹ مذہب کی تفصیل کے بغیر جاری ہوچکے ہیں، وہ چاہیں تو متعلقہ دفاتر سے اپنے پاسپورٹ پر مہر لگوا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے نئے کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ کو عالمی معیار کے مطابق جاری کرنے کے لیے مذہب کا خانہ نکال دیا تھا۔ جس کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں اور گروپوں نے اس پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس عمل کو ’احمدیوں‘ کی سازش قرار دیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسے موقع پر پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا جب حزب مخالف کی مذہبی جماعتیں صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک چلارہی ہیں اور اپنے جلسوں اور جلوسوں میں اس نکتہ کو اچھال کر لوگوں کو اکسا رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں حکومت مخالف تحریک کس حد تک کمزور ہوسکتی ہے، اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں میں ہی ہوگا لیکن ان کے مطابق اس سے مذہبی انتہاپسندوں کو تقویت پہنچ سکتی ہے۔

کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرنے سے دنیا میں صدر جنرل پرویز مشرف کے روشن خیال اعتدال پسندی کو فروغ دینے کے خیالات پر سوالات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں کہ ایک جانب وہ انتہا پسندوں کو روکنے کی بات کرتے ہیں وہاں مذہبی اور انتہا پسند گروپوں کو خوش کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد