مذہب کا خانہ، تحریک کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ قاضی حسین احمد نے حکومت کے نئے جاری کردہ کمپیوٹرائیزڈ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرانے کے لیے اٹھارہ مارچ سے ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے بدھ کے روز اسلام آباد کے مصروف ترین چوراہے، آبپارہ پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام کے مطابق اٹھارہ مارچ کو رحیم یار خان سے جلوس نکلے گا جو کشمور اور شکارپور سے ہوتا ہوا رات نو بجے سکھر پہنچے گا، جہاں جلسہ بھی ہوگا۔ انیس مارچ کو قاضی حسین احمد کی سربراہی میں سکھر سے قافلہ روانہ ہوگا اور سندھ کے مختلف شہروں میں جلسوں کے بعد رات کو حیدرآباد میں ایک جلسہ کرنے کے بعد ختم ہوگا۔ قاضی حسین احمد کے مطابق بیس مارچ کو حیدرآباد سے کراچی تک جلوس نکالا جائے گا۔ بائیس مارچ کو راولپنڈی سے گجرانوالا تک جلوس نکلے گا اور تئیس مارچ کو لاہور میں جلسہ ہوگا۔
ان کے مطابق پچیس کو کوئٹہ اور ستائیس کو راولپنڈی سے پشاور تک جلوس نکالا جائے گا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں سے مشاورت کے بعد ملک گیر ہڑتال کی بھی جلد اپیل کی جائے گی۔ متحدہ مجلس عمل اور تحریک تحفظ ختم نبوت کی جانب سے پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالنے کے خلاف میلوڈی سے آبپارہ تک احتجاجی جلوس نکالا گیا اور بعد میں شرکاء آبپارہ چوک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ جس سے دو گھنٹوں سے زیادہ دیر تک آمد و رفت معطل رہی۔ مولانا فضل الرحمٰن بیماری کے باعث شرکت نہیں کرسکے لیکن انہوں نے ٹیلی فون پر جلسے سے خطاب کیا۔ مقررین نے صدر جنرل پرویز مشرف پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ امریکی خوشنودی کے لیے ملک میں ’سیکولرازم، پھیلانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے صدر مملکت پر الزام لگایا کہ وہ قادیانی اور آغا خانی لابیوں کے ذریعے نصاب تبدیل کرنے کے بعد پاسپورٹ سے مذہب کا خانہ نکالنے سمیت ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کا اسلامی تشخص مٹ جائے۔ شرکاء نے اس موقع پر امریکی صدر جارج بش اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے اور مقررین نے ان سے صدر مشرف کو اقتدار سے ہٹانے اور مذہب کا خانہ شامل کرنے تک اپنی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ حافظ حسین احمد نے اپنے روایتی انداز میں صدر پر تنقید کی اور کہا کہ جب بھی وہ باہر نکلتے ہیں تو ’روٹ‘ لگتا ہے اور گھنٹوں عام آدمیوں کو روکا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’روٹ‘ ان کے لگتے ہیں جن کے عوام میں ’روٹس‘ نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ اعجازالحق اور چودھری شجاعت حسین مذہب کا خانہ شامل کرنے کے حامی ہیں لیکن ان کی کوئی مانتا ہی نہیں۔ انہوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ صدر مشرف کی حمایت ختم کریں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ وہ یہ جلسہ پارلیمان کے سامنے کرنا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ نے انہیں اجازت نہیں دی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اپریل تک اگر مذہب کا خانہ شامل نہیں کیا گیا تو وہ پارلیمان کے سامنے دھرنا دیں گے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||