ایم ایم اے، اے آر ڈی اصولی اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب مخالف کے دو بڑے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے مرکزی رہنماؤں نے مشترکہ جدوجہد پر اصولی اتفاق کرلیا ہے لیکن بعض امور پر ’اے آر ڈی‘ نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں قاضی حسین احمد اور عبدالغفور حیدری نے بدھ کے روز اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے رہنماؤں مخدوم امین فہیم، راجا ظفرالحق، ظفر اقبال جھگڑا اور نفیس صدیقی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد قاضی حسین احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں اتحادوں میں مشترکہ جدوجہد پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ ملاقات کے بعد مخدوم امین فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اتحادوں کے رہنماؤں کے درمیاں مشترکہ جدوجہد کرنے کے سلسلے میں آج ابتدائی نوعیت کی ملاقات ہوئی ہے اور انہیں مختلف معاملات پر اب بھی تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اتحادوں کے نمائندوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا ہے، جس پر اکیس فروری کو دوبارہ بات چیت ہوگی۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ مشترکہ جدوجہد کرنے پر اتفاق تو ہے جو ایک لحاظ سے بریک تھرو ہے لیکن اب بھی کچھ معاملات پر انہیں تحفظات ہیں جو طے کرنے ہوں گے۔ ملاقات میں موجود اے آر ڈی کے رہنما نفیس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ متحدہ مجلس عمل سن دوہزار پانچ میں عام انتخابات کے ’اے آر ڈی‘ کے مطالبے کی مخالف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سترہویں آئینی ترمیم ختم کرنے کے معاملے پر کافی حد تک دونوں اتحادوں کے رہنماؤں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||