اہم فیصلوں کے لیے ایم ایم اے اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف متحدہ تحریک چلانے، گزشتہ ماہ ایم ایم اے کے رہنماؤں کی جلاوطن سابق وزیراعظم نواز شریف سے سعودی عرب میں ملاقات اور ملک میں شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی اور دیگر معاملات پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس سابق وزیراعظم نواز شریف اور متحدہ مجلس عمل کے صدر اور پارلیمانی لیڈر قاضی حسین احمد کے اس اعلان کے بعد منعقد ہو رہا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نےکہا تھا کہ ایم ایم اے اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے علاوہ دیگر قومی اور جمہوری سوچ رکھنے والے محب وطن رہنماؤں کو اس ایک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ تاہم اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے صدر مخدوم امین فہیم کا کہنا ہے کہ ان کا اتحاد اس فیصلے کی توثیق نہیں کر سکتا کیونکہ اس فیصلے میں اے آر ڈی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اے آر ڈی کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے نے ابھی تک وہ کمیٹی ہی تشکیل نہیں دی جو اے آر ڈی کے ساتھ حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کے امکانات کا جائزہ لے گی جبکہ اے آر ڈی نے اپنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم ایم ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ حکومت کے خلاف کس پیمانے پر تحریک چلائی جائے اور اس سلسلے میں اے آر ڈی کا ساتھ کس قدر تعاون کیا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||