BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 March, 2005, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے، اے آر ڈی جدوجہد

قاضی حسین احمد اور مولانا ظفر الرحمٰن (فائل فوٹو)
قاضی حسین احمد اور مولانا ظفر الرحمٰن (فائل فوٹو)
پاکستان میں حزب اختلاف کے دو بڑے اتحادوں میں متحدہ مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے تین نکات پر مشترکہ جدوجہد شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بات اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ طفرالحق کی رہائش گاہ پر ہونے والے ایک اجلاس کے بعد بتائی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن تین نکات پر اتفاق ہوا ہے ان میں سیاست سے فوج کی مداخلت ختم کرنے، تہتر کے آئین میں صدر جنرل پرویز مشرف کی شامل کردہ ترامیم ختم کرنے اور صاف اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد، خودمختار اور غیرجانبدار الیکشن کمیشن کا قیام شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے ابھی تک ’اے آر ڈی‘ کی جانب سے حالیہ برس عام انتخابات کرانے کے مطالبے کی حمایت نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ جدوجہد کا طریق کار طے کرنے کے لیے دونوں اتحادوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اتفاق رائے سے سفارشات تیار کر کے مرکزی قیادت کو پیش کرے گی۔

News image
راجہ ظفر الحق (فائل فوٹو)

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو کسی صورت قبول نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے حکومت سے رابطوں پر مجلس عمل نے اعتراضات اٹھائے جس پر راجہ پرویز اشرف نے وضاحت پیش کی کہ ان رابطوں میں ان کی جماعت نے وہی موقف پیش کیا ہے جو ان کے اتحاد ’اے آر ڈی،‘ کا ہے۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ چند دن قبل جمیعت علماء اسلام صوبہ سرحد کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن اور وزیر اعلیٰ سرحد کے لیے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اجازت کا جو مطالبہ کیا گیا ہے اس پر پیپلز پارٹی نے اعتراض کیا۔

لیاقت بلوچ کے مطابق انہوں نے ’اے آر ڈی‘ کے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ مطالبہ صوبائی سطح کا ہے اور ابھی مجلس عمل نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل نے صدر جنرل پرویز مشرف کی آئینی ترامیم کی منظوری کے لیے حکومت کا ساتھ دیا تھا لیکن اب وہ اپنی منظور کرائی گئی سترہویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کے لیے ’اے آر ڈی‘ کا ساتھ دے رہی ہے۔

اپنے اس رویے کے بارے میں مجلس عمل کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ انہوں نے نظام کو چلانے کے لیے ایسا کیا تھا اور اس کے بدلے صدر جنرل پرویز مشرف نے اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک وردی اتارنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے مطابق جب صدر نے وعدہ خلافی کی ہے تو وہ بھی سترہویں آئینی ترمیم کو نہیں مانتے۔

پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور ’اے آر ڈی‘ کے سربراہ مخدوم امین فہیم موجود نہیں تھے۔ اجلاس میں مجلس عمل کے حافظ حسین احمد اور لیاقت بلوچ جبکہ دوسری جانب سے راجہ پرویز اشرف، اقبال ظفر جھگڑا، تہمینہ دولتانہ اور دیگر نے شرکت کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد