BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 March, 2005, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر مشرف ڈیل، حقیقت کیا؟

بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ آصف زرداری پارٹی کی قیادت کریں گے
بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ آصف زرداری پارٹی کی قیادت کریں گے
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے جاری رابطوں اور ہونے والی بات چیت، اب لگتا ہے کہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان شاید جلد ہی کوئی معاہدہ طے پاجائے۔

اس سلسلے میں جب وزیراطلاعات شیخ رشید احمد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’حکومت اور پیپلز پارٹی میں جاری رابطوں اور ہونے والے مذاکرات میں خاصی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔‘

’خاصی مثبت پیش رفت، کی تفصیلات انہوں نے بتانے سے گریز کیا لیکن ان کی بات چیت سے لگ رہا تھا کہ وہ اس سلسلے میں پرامید بھی تھے۔

حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو سے اب تک جو بات چیت ہوئی ہے اس میں ایک اہم اختلافی نکتہ آئندہ انتخابات کے انعقاد کا ہے۔

ایک اہم حکومتی ذمہ دار شخص نے بتایا کہ حکومت نے مقررہ مدت سے ایک سال قبل یعنی آئندہ سال عام انتخابات کرانے کی بے نظیر بھٹو کو پیشکش کی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ بےنظیر بھٹو اس رائے پر مثبت سوچ رکھتی ہیں البتہ آصف علی زرداری اب تک رواں سال انتخاب کرانے کی بات پر تاحال ڈٹے ہوئے ہیں۔ جو بھی ان کے بقول جلد مان جائیں گے۔

اس سلسلے میں جب آصف علی زرداری سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ ’بالکل ان کا مطالبہ ہے کہ عام انتخابات اس سال کرائے جائیں کیونکہ صدر مشرف کی ’حقیقی جمہوریت، ناکام ہوگئی ہے۔‘

تاہم حکومت سے کسی سمجھوتے کے متعلق انہوں نے کہا کہ ابھی تک انہیں حکومت نے کوئی ٹھوس فارمولا پیش نہیں کیا۔

حکومتی حلقوں نے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی کو آئندہ ماہ تجویز کردہ بلدیاتی انتخابات میں ’مکمل ڈھیل، دی جائے گی اور صوبہ سندھ میں اگر وہ حکومت بنانا چاہیں تو بھی حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق بینظیر بھٹو سے ہونے والے سمجھوتے کے مطابق انہیں فی الحال باہر رہنا پڑے گا جبکہ آصف علی زرداری یا کوئی بھی بےنظیر بھٹو کا نامزد کردہ شخص آئندہ انتخابات کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کو وردی اتارنے کی صورت میں پانچ برسوں کے لیے صدر منتخب کرانے کی شرط پر وزیراعظم بن سکتا ہے۔

حکومتی حلقوں کی بتائی گئی باتوں سے تو لگتا ہے کہ بےنظیر بھٹو آئندہ ’سیٹ اپ، سے باہر ہوں گی اور پیپلز پارٹی کی مجبوری ہے کہ وہ حکومت سے سمجھوتہ کرے۔

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر بےنظیر بھٹو ایسا کیوں کریں گی ؟ اور بالکل یہ ہی سوال بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بھی اس موضوع پر بحث کے دوران اٹھایا۔

اس بارے میں حکومت کے نمائندے کہتے ہیں کہ بےنظیر بھٹو ’منی لانڈرنگ، یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کے بارے میں جو مقدمہ سوئٹزرلینڈ میں بھگت رہی ہیں اس سے بچنے کے لیے رضامند ہوجائیں گی۔

کیونکہ اس مقدمے میں اگر انہیں سزا ہوئی تو دنیا بھر میں وہ رسوا ہوجائیں گی اور دنیا کا کوئی بھی ادارہ انہیں مدعو نہیں کرے گا۔ جس سے ان کے مطابق نہ صرف بےنظیر بھٹو کا وقار مجروح ہوگا بلکہ ان کی اچھی خاصی آمدن بھی متاثر ہوگی۔

بےنظیر بھٹو کے حال ہی میں امریکی ریڈیو کو دیا گیا انٹرویو حال ہیں میں اخبارات میں شائع ہوا ہے ’انہوں نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری آئندہ ماہ پاکستان جا رہے ہیں اور وہ پارٹی کو’لیڈ‘ کریں گے۔

اس انٹرویو میں ان سے منسوب یہ بھی تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ آئندہ سیٹ اپ سے باہر رہیں۔

ان سے منسوب اس انٹرویو کی تادم تحریر کوئی تردید یا وضاحت نہیں آئی۔ ان کی باتوں کا بعض تجزیہ نگار یہ مفہوم نکال رہے ہیں کہ اگر حکومت اور پیپلز پارٹی میں مفاہمت ہوگئی تو شاید مستقبل میں وہ اپنے شوہر کو وزیراعظم نامزد کرسکتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کو آصف زرداری کے ’لیڈ ‘ کرنے کی ان کی بات پر پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم کسی نے ابھی تک برملا اس کا اظہار نہیں کیا۔

لیکن آصف زرداری کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا فیصلہ بےنظیر بھٹو ہی کریں گی لیکن پارٹی کو چلانے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ آئندہ ماہ سولہ تاریخ کو لاہور پہنچ کر ملک بھر کے دورے شروع کریں گے۔

حکومت اور پیپلز پارٹی میں رابطوں کے بارے میں سرکاری طور پر سب سے پہلے شیخ رشید احمد نے بیان دیے تھے اور ان کے بیان کے بعد حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اپنی جماعت کے وزیر کے موقف پر سوالیہ نشان لگایا تھا۔

لیکن اب تو چودھری شجاعت حسین نے بھی مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق کردی ہے۔

حکومت اور پیپلز پارٹی میں مستقبل کے ’سیٹ اپ ‘ کے بارے میں مفاہمت کی باتوں سے پیپلز پارٹی چھوڑ کر ’پیٹریاٹ‘ بنانے والے تو پریشان ہیں ہی لیکن بہت سارے موجودہ مسلم لیگی بھی سوچ رہے ہیں کہ ان کا کیا بنے گا۔

اس بارے میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندے یقیناً سوچیں گے اور شاید یہ شرط بھی رکھیں کہ پیپلز پارٹی انہیں مفاہمت کا جہیز سمجھ کر فی الحال ساتھ لے لیں۔

کچھ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ جب صدر جنرل پرویز مشرف جلسوں میں اعلان کریں کہ وہ چاہتے ہیں کہ کہ روشن خیال اعتدال پسند لوگ حکومت چلائیں اور بےنظیر بھٹو کہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ باہر رہیں اور وہ آصف علی زرداری کو پارٹی ’لیڈ‘ کرنے کے لیے پاکستان بھیج رہی ہیں تو حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ’ڈیل‘ کے شک کومزید تقویت ملتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد