پیپلز پارٹی سے رابطہ ہے: شجاعت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پہلی بار حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات چیت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک فریقین کے درمیان کسی مسئلے پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ یہ بات چیت کن موضوعات پر ہو رہی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات اگلے عام انتخابات کے بعد کی صورتحال پر ہو رہے ہیں جو کہ اپنے مقررہ وقت پر 2007 میں ہی ہوں گے۔ انہوں نے وقت سے پہلے انتخابات کی قیاس آرائیوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات مقررہ وقت سے آگے تو جاسکتے ہیں لیکن پہلے نہیں ہوسکتے۔ سولہ اپریل کو پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری کی لاہور آمد کے پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک میں سیاسی جلوسوں پر پابندی عائد ہے تاہم جلسوں کی اجازت ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ کے اندرونی بحران پر جماعت کے صدر نے کہا کہ بات چیت جاری ہے اور جلد اس کا حل سامنے آجائے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی وزیر کی چارج شیٹ جاری کرنا وزیراعلیٰ کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کے گورنر کی تبدیلی ایک معمول کا معاملہ ہے۔ بلوچستان پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کرلی ہیں اور صدر مملکت جنرل پرویز مشرف بھی ان سفارشات کی حمایت کرتے ہیں۔ حکمران جماعت کے صدر کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے پاس کوئی معاملہ ایسا نہیں جس پر وہ حکومت کے خلاف تحریک چلائے۔ یاد رہے کہ مجلس عمل نے صدر جنرل پرویزمشرف کی وردی کے معاملہ پر ملین مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پاسپورٹ میں مذہبی خانہ کی بحالی کے معاملہ پر بنائی گئی وزارتی کمیٹی نے اپنی سفارشات مکمل کرلی ہیں اور وفاقی کابینہ کے اگلے اجلاس میں انہیں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کسی غیر رجسٹرڈ اسکول کو آغا خان بورڈ سے الحاق کی اجازت نہیں دے گی اور ایسے اسکولوں کو پہلے حکومت سے رجسٹرڈ ہونا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||