1973 کا آئین ایک پوائنٹ ایجنڈا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جدہ میں حزب اختلاف کی ملاقاتوں سے یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ 73 کے آئین کی اصل صورت میں بحالی اپوزیشن اتحاد کا واحد نکتہ بن سکتی ہے۔ جدہ میں متحدہ مجلسِ عمل اور جمعیت ِ علمائے اسلام کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمٰن اور حافظ حسین احمد نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ ان سے پہلے جماعتِ اسلامی اور متحدہ مجلسِ عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے بھی جدہ ہی میں نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں مسلم لیگ نواز کے رہنما چوہدری نثار بھی شریک تھے۔ ایم ایم اے کے پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد نے اس ملاقات کے بعد بی بی سی کے وسعت اللہ خان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ 1973 کے دستور کو اس کے اصل شکل میں بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ 73 کے آئین میں زیڈ اس بھٹو، ضیا الحق، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور اب پرویز مشرف کے دور میں جس قدر بھی ترمیم کی گئی ہیں، جن میں سترہویں ترمیم بھی شامل ہے ختم کی جائیں گی اور آئین کو اصل صورت میں بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کے اس سلسلے میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ اس حوالے سے اے آر ڈی کے اس کمیٹی میں جس راجہ ظفر الحق اور مخدوم امین فہیم، مولنا فضل الرحمٰن اور خود حافظ حسین احمد بھی شامل ہیں مزید ایک ایک اور نمائندہ شامل کیا جائے گا۔
انہوں کہا ہے کہ ان کی اور چوہدری نثار کی یہ ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ ایم آر ڈی اور ایم ایم اے کی دوسری جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایم ایم اے کی سپریم کونسل نے کارروان کے حوالے سے جو فیصلے کیے ہیں اور جو اس حوالے سے کرے گی نواز شریف اس کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ لائحہ عمل کی کوشش کی جائے گی اور سب لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں چوہدری نثار بھی دو ایک روز میں پاکستان کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کے اگر دوسری جماعتیں ایم ایم اے کے ساتھ شامل نہ ہوئیں تو کیا مسلم لیگ نون اور ایم ایم اے مل کر تحریک چلائیں گی؟ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے پہلے بھی حمایت کرتی رہی ہے اور اب بھی کرے گی۔ پاکستانی سیاست میں نئی صف بندی کے حوالے سےملاقاتوں کو کے بارے میں کیے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ نظریاتی طور پر صف بندی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں ایسے کئی مواقع آئے جن پر مسلم لیگ نون نے نظریاتی طور پر ایم ایم اے کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کے حوالے سے سب کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||