جنرل مشرف پر ’آئین سے بغاوت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی وفاقی کونسل نے صدر پرویز مشرف کا وردی میں رہنے کے حق میں دلائل دینےکو ’آئین سے بغاوت‘ کے مترادف قرار دیا ہے اورسپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اپنے اختیارت استعمال کرتے ہوئے ازخود صدر پریز مشرف کے خلاف ایکشن لیں۔ یہ مطالبہ وفاقی کونسل نےاتوار کو لاہور میں اپنے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعدسابق وفاقی وزیر خالد احمد کھرل اور منیر احمد خان نے اخبار نویسوں کو اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دی ۔ انہوں نے کہاکہ آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ کوئی شخص صدر اور چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے نہیں رکھ سکتا اور جنرل مشرف اس کے باوجود وردی میں رہنے کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام ’آئین سے بغاوت‘ کے مترادف ہے اس لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل پانچ اور چھ کے تحت ’آئین سے بغاوت‘ کی کارروائی ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ آئین کی محافظ ہے اور اس کی تشریح کرتی ہےاس لیے ان کی جماعت کی فیڈرل کونسل کو خدشہ ہے کہ اگر چیف جسٹس نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا تو ہر طالع آزما ملکی آئین کی تشریح اپنے طور پر کرے گااور ذاتی مفاد کو قومی مفاد کا نام دے گا۔ انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کے وردی والے معاملے کی وجہ سے فوج میں بددلی پھیل رہی ہے کیونکہ ان کے چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کو نہ چھوڑنے سے دیگر افسران کی ترقیاں رکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’وہ جس طرح غیر آئینی صدر ہیں اسی طرح سے غیر آئینی چیف آف آرمی سٹاف ہیں‘۔
پیپلز پارٹی کی فیڈرل کونسل نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ جس طرح جنرل عزیز اور جنرل یوسف اکتوبر میں ریٹائر ہو رہے ہیں اسی طرح سے پرویز مشرف بھی اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں کیونکہ جب مذکورہ دونوں جنرلوں کو اس عہدے پر تین سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا اسی وقت پرویز مشرف نے بھی اپنے عہدے میں تین سال کی توسیع لی تھی۔ تینوں کی مدت ملازمت ایک ساتھ پوری ہوئی ہے اس لیے تینوں ساتھ ساتھ عہدے چھوڑنے چاہییں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||