کوئٹہ: نئے آئین کے حق میں بڑا جسلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں اپنے آپ کو محکوم کہلوانے والی قوم پرست جماعتوں کی تنظیم پونم نےایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا ہے جس میں مختلف قوموں کو برابری کی بنیاد پر نئی قانون ساز اسمبلی کا انتخاب اور ان قوموں کے حقوق پر مبنی نئے آئین کے مطالبے دہرائے گئے ہیں۔ صادق شہید پارک میں اس جلسے کے دوران پشتونخواہ مِلّی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) کے کارکن اور جھنڈے نمایاں نظر آرہے تھے جبکہ بلوچستان کے حقوق اور پنجاب کی بالادستی کے خلاف زبردست نعرہ بازی ہوئی۔ اس جلسے سے بزرگ سیاستدان اور پونم کے چیئرمین سردار عطاءاللہ مینگل، محمود خان اچکزئی ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کے علاوہ سندھی اور سرائکی قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا۔ عطا اللہ مینگل نے اپنی تقریر میں بلوچستان کے حقوق کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں ترقی کے نام پر بلوچستان کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکمران اتنے اچھے نہیں ہیں کہ بلوچستان کی فکر میں گوادر کی ترقی کر رہے ہیں بلکہ ان کے عزائم کچھ اور ہیں جنہیں یہاں پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ عطاء اللہ مینگل نے کہا ہے کہ جلسے جلوسوں اور تقریروں سے ہم یہ کام نہیں رکوا سکتے بلکہ اس کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر جرنیلوں سے کہنا پڑے گا کہ ’بابا آپ سرحدوں کی حفاظت کرو سیاست سیاستدانوں کا کام ہے‘، فوج کے لیے تمام سازوسامان مہیا کرنا سیاستدانوں کا کام ہوگا۔ انہوں نے دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہیں بھی فوج اور خفیہ ایجنسیاں سیاست یا حکومتی کاموں میں مداخلت نہیں کرتیں صرف پاکستان میں یہ کام ہو ہا ہے جس کی وہ ہر مقام پر مخالفت کریں گے۔ محمود خان نے مذہبی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک جنرل کو تسلیم کرکے تین مزید جرنیلوں کی سیاست میں آمد کے لئے راہ ہموار کر دی ہے اور نعرے جمہوریت کے لگا رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی کو اونے پونے داموں بیچا جا رہا ہے جس کی وہ اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جلسے کو یہ باور کرایا کہ موجودہ حکمران طبقہ زمینوں کی ایجنٹی بھی کر رہا ہے، سوسائیٹیاں بھی یہ خود ہی بنا رہے ہیں اور بلوچستان کے عوام کے حقوق چھین رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ جلسہ کوئٹہ کی تاریخ کا ایک بڑا جلسہ تھا۔ صادق شہید پارک لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مغرب کی آزان کے وقت نماز کا وقفہ کیا گیا لوگوں نے پارک میں نماز ادا کی اور پھر جلسہ شروع ہوا لیکن لوگوں کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||