BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 April, 2004, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قوم پرستوں کا نیا سیاسی اتحاد

اسفند یار ولی خان
اے این پی کے صدر اسفند یار ولی خان
عوامی نیشنل پارٹی نے قوم پرست جماعتوں پر مبنی ایک نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے تجویز کی حمایت کرتے ہوئے مشترکہ کاوش کا یقین دلایا ہے۔

کوئٹہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ نواب اکبر بگٹی نے اصولی طور پر نیا اتحاد بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اب دونوں جماعتوں کے لیڈر بیٹھ کر باقی معاملات طے کریں گے۔

انہوں نےمزید کہا کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچستان نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے انضمام سے بننے والی جماعت نیشنل پارٹی کے قائدین ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور حاصل بزنجو سے رابطہ ہوا ہے اور انہوں نے مئی میں جماعت کے اجلاس کے بعد اپنے فیصلے کے بارے میں بتانا ہے۔ دیگر جماعتوں کے قائدین سے کراچی میں مذاکرات ہوں گے۔

اسفندیار نے یہ بھی کہا کہ نئے اتحاد مضبوط وفاق اور صوبوں کو مکمل اختیارات دینے کی حمایت کرے گا۔ اس اتحاد کا نام تمام جماعتیں مل کر تجویز کریں گی۔ ان سے پوچھا گیا کہ قوم پرست جماعتوں پر مبنی پونم نامی ایک اتحاد پہلے ہی قائم ہے جس سے اے این پی نے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور یہ کہ پونم کی موجودگی میں اس نئےاتحاد کے چلنے کے کیا امکانات ہیں۔ اس پر اسفندیار نے کہا کہ پونم میں شامل جماعتیں کنفڈریشن پر یقین رکھتی ہیں جو اے این پی کے بنیادی منشور کی نفی ہے۔ اس کے علاوہ نیا اتحاد ایک مختلف اور بڑے نظریہ کے تحت قائم کیا جا رہا ہے۔ اس میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو پونم کا حصہ نہیں ہیں جیسے نواب اکبر بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسفندیار ولی گزشتہ دس روز سے بلوچستان کے دورے پر ہیں اور یہاں انہوں نے جلسوں کے علاوہ سیاسی قائدین سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اتحاد برائے بحالئ جمہوریت کے قائدین تہمینہ دولتانہ اور نفیس صدیقی سے کہا کہ وہ اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ اے آر ڈی صوبائی خود مختاری پر ان سے معاملات طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آئیندہ اقتدار پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نواز کو ملے گا، لہذا ان کی جنگ وہ کیوں لڑیں۔

انہوں نے اخباری کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیم بننے سے مرنا ہی ہے تو مرنے کا طریقہ وہ خود اختیار کریں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد