BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 April, 2004, 01:35 GMT 06:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پونم سیمینار: حکومت کی مذمت

تہمینہ دولتانہ
’حکمران پورا ملک بیچنا چاہیتے ہیں‘
اتحاد برائے بحالئ جمہوریت اور اپنے آپ کو محکوم کہلانے والی جماعتوں کی تنظیم پونم میں شامل جماعتوں کے مرکزی اور صوبائی قائدین نے بلوچستان میں چھاؤنیوں کے قیام اور گوادر میں مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مخالفت کی ہے۔

کوئٹہ میں اتوار کو اتحاد برائے بحالئ جمہوریت کے ہونے والے اجلاس میں قومی سلامتی کونسل کے قیام کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ سب تبدیلیاں واپس کر دیں گے۔

بلوچستان اسمبلی کی چھاؤنیوں کے قیام کے خلاف متفقہ قرارداد کے باوجود چھاؤنیوں کے قیام کی کوششوں کی مذمت کی گئی ہے۔ عراق فوج بھیجنے کی مخالفت کرتے ہوئے تہمینہ دولتانہ نے کہا ہے کہ فوج بھیجنے کی ضرورت فلسطین کو ہے جہاں مسلمانوں کو کچلا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی خود مختاری کے حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی کو فعال کیا جا رہا ہے تاکہ قوم پرست جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں اور موجودہ حکومت کے خلاف زبردست تحریک شروع کی جا سکے۔

گزشتہ رات جمہوری وطن پارٹی کے زیر اہتمام گوادر پراجیکٹ اور چھاؤنیوں کے قیام کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے کہا ہے فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کک حکومت کرنا لہذا اس وقت متحد ہو کر حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے کوششیں کرنا چاہیئں۔

پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی سینیئر نائب صدر تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ صرف گوادر ہی نہیں بلکہ موجودہ حکمران پورا ملک بیچنے کے درپے ہیں اس وقت سیاسی اور جمہوری قوتیں ہی ملک کو تباہی سے بچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سب متحد ہو کر موجودہ حکمرانوں کے ٹولے کو ایوان اقتدار سے باہر نکال سکتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر نفیس صدیقی نے کہا ہے سیاسی جماعتوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن کم سے کم نکات پر متحد ہو کر موجودہ حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنی چاہیے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نواز گروپ ہی برسرِ اقتدار آئے گی تو ایک شخص کو قیادت سے ہٹا کر دوسرے کو بٹھانے میں انہیں کیا فائدہ حاصل ہو گا لہذا صوبائی خود مختاری کے حوالے سے ان کے تحفظات اگر دور کر دیے جائیں تو وہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے ساتھ مل کر جدو جہد شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نیشنل پارٹی کے قائد ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر میں فوجی مقاصد کے لیے ہزاروں ایکڑ زمین لی گئی ہے جہاں یہ لوگ سوسائٹیاں بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ صوبائی خود مختاری کی شرط پر تعاون کرنے کا اعلان کیا۔

سیمینار میں جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے ایک طبقہ مسلسل بلوچستان کے وسائل ہڑپ کر رہا ہے۔

بلوچستان اور سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے پنجاب کی قیادت کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہا ہے کہ ایک صوبے کی بالادستی قائم کرنے کے لیے باقی صوبوں کو پسماندہ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کیے گئے ہیں اور جگہ جگہ ملیشیاکے قلعے ہیں جہاں مقامی آبادی کی توہین کی جاتی ہے۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے قائدین نے اپنے صوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں لوگوں نے خود ہی اپنے آپ کو پسماندہ رکھا ہوا ہے۔ پنجاب میں بھی عام لوگ غریب پسماندہ اور بے روزگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضرور ہے کہ ایک گروہ ہے جو انتہائی ظالم ہے اور ایسے گروہ کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد