| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئینی ترمیمی بل پر پھر اختلافات
حکومت اور متحدہ مجلس عمل کے مابین مفاہمت سے آئینی ترمیمی بل کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد بل کے مندرجات پر ایک بار پھر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ حکومت اور پاکستان کی چھ دینی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ، متحدہ مجلس عمل کے درمیان معاہدہ کے مطابق آئین میں ترمیم کا بل جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا تھا۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئینی ترمیمی بل کے جس مسودے پر حکومت اور متحدہ مجلس عمل کے مابین معاہدہ ہوا تھا، یہ وہ مسودہ نہیں ہے، کیونکہ جو مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ ایل ایف او کو پہلے ہی آئین کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور اس بل کے ذریعے اس میں ترمیم کرنا مقصود ہے۔ مجلس عمل کے رہنماؤں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایل ایف اور آئین کا حصہ نہیں ہے اور اس بل کے ذریعے اس کو آئین کا حصہ بنانا ہے۔ اس بل کو سترہویں آئینی ترمیمی بل کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی آئین میں گزشتہ تیس سالوں میں پندرہ ترامیم ہو چکی ہیں جب کہ سولہویں ترمیم آئین کا حصہ نہیں بن سکی تھی۔ حکومت کی طرف سے یہ ترمیمی بل قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت رضا حیات ھراج نے پیش کیاـ قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والا بل دس نکات پر مشتمل ہے اور اس کے مسودے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں یہ فرض کر لیاگیا ہے کہ صدر مشرف کی طرف سے لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے کی گئی متنازعہ ترامیم آئین کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان ترامیم کو حزب اختلاف کی جماعتیں جن میں متحدہ مجلس عمل شامل ہے آئین کا حصہ نہیں مانتیں۔ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ اس بل کی منظوری کے تیس دن کے اندر پارلیمان یا صوبائی اسمبلیوں کا کوئی رکن صدر پاکستان پر اعتماد کے ووٹ کی قرار داد پیش کرے گا ـ چیف الیکشن کمشنر حکومت کی طرف سے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق سینیٹ ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صدر کے اعتماد کے ووٹ کا اہتمام کرے گا۔ ووٹوں کی گنتی اور قرارداد پیش کرنے کا طریقہ کار حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بعد میں طے کرے گی ـ آئینی بل میں کہا گیا ہے کہ شق 63(ڈی) جو کے صدر کی اہلیت کے متعلق ہے اور اسکے تحت کوئی سرکاری افسر صدر کے عہدے پر فائز نہیں ہو سکتا، اکتیس دسمبر دو ہزار چار کے بعد بحال ہوگی۔ آئینی بل میں ججوں کی مدت ملازمت میں کی گئی تین سال کی توسیع ختم کرکے سابقہ مدت بحال کر دی گئی ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے قیام ، اسیمبلی توڑنے کے اختیارات نیز افواج پاکستان کے سربراہوں اور آئینی عہدوں پر تقرریوں کے صوابدیدی صدارتی اختیارت کے متعلق شقیں بھی بل میں شامل ہیں۔ شق 270 اے اے کے تحت اکتوبر 1999ء سے صدر جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ تمام احکامات کو جائز قرار دیا گیا ہےـ قبل ازیں وزیراعظم کی موجودگی میں جب رضا حیات ھراج نے بل پیش کیا تو اے آر ڈی کے ارکان اسمبلی میں ’نو نو‘ کے نعرے لگاتے ہوئے جاوید ہاشمی اور عابد شیر علی کو ایوان میں پیش کرنے کا حکم جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے سامنے روسٹرم کے آگے جمع ہوگئے اور نعرے لگاتے رہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں راجہ پرویز اشرف، چوہدری نثار علی خان، اعتزاز احسن، اور دیگر نے آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔ اجلاس کے آغاز میں مولانا شاہ احمد نورانی کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ اجلاس میں بیگم مہناز رفیع نے صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مذمتی قرار داد پیش کی جو کہ منظور کر لی گئی ـ تاہم امین فہیم اور چودھری نثار علی خان نے کہا کہ یہ حیران کن بات ہے کہ آرمی چیف پر دس دن میں دو مرتبہ حملہ ہوا ہےـ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیاں جو سفید ہاتھی کی طرح حکومت نے پال رکھی ہیں ان کی باز پرس کرنی چاہئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||