BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 December, 2003, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت سے معاہدہ: ساجد میر مخالف

ایم ایم اے
ایم ایم اے کی رہنما

متحدہ مجلس عمل کے نائب صدر پروفیسر ساجد میر نے حکومت سے ہونے والے معاہدے کی مخالفت کردی ہے اور اس معاہدہ کو مجلس عمل کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ کی توھین قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ اعتماد کے ووٹ کے سلسلے میں معاہدہ کے برعکس ووٹ صدر مشرف کے خلاف دیں گے۔

متحدہ مجلس عمل چھ دینی و سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے اور سنیٹر ساجد میر ان میں سے ایک ’مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان‘ کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے کہا ہےکہ وہ مجلس عمل میں شامل رہیں گے کیونکہ ان کے خیال میں وہ اتحاد میں موجود رہ کر ان کے غلط کاموں کو زیادہ بہتر طریقہ سے روک سکیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے ہونے والے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

قاضی حسین احمداور مولانا سمیع الحق کی غیر موجودگی میں وہ متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام صدر بھی ہیں۔

اسلام آباد میں جمعرات کو سنیٹر ساجد میر نے مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔

ان کے تر جمان صاحبزادہ امجد اجمل نے بتایا ہے کہ انہوں نے مجلس عمل کی سپریم کونسل میں یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ حکومت اور مجلس عمل کے اس معاہدے کے خلاف ہیں۔

انہوں نےکہا کہ مولانا فضل الرحمان کے اصرار کے باوجود وہ چودھری شجاعت اور دیگر حکومتی رہنماؤں سے ملاقات کرنےان کی رہائش گاہ پر نہیں گئے تھے اور معاہدے پر دستخط کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

جمعرات کو جب حکومت اور مجلس عمل کے معاہدہ کا اعلان کیا گیا اسی شب چند گھنٹوں بعد ہی سنیٹر ساجد میر کی جانب سے معاہدہ کے خلاف ایک پریس ریلیز بھی اخبارات کو جاری کی گئی تھی۔

ساجد میر نے کہا کہ انہیں آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کی کسی بھی صورت بحالی اور صدر کو اسمبلی توڑنے کے جو بھی اختیارات دیے گئے ان پراعتراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا جاۓ یا نہ کیا جاۓ اسمبلی توڑنا ہے ہی غلط ۔

ساجد میر نے کہا کہ ’اکثرججوں نے جرنیلوں کا ہی ساتھ دیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی اس موقف پر قائم ہیں کہ ’پرویز مشرف وردی میں ہوں یا وردی کے بغیر انہیں نامنظور ہیں اور وہ انہیں غیر قانونی، غیر شرعی اور غیر اخلاقی حکمران سمجھتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کی جدو جہد جاری رہےگی۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’مجلس عمل نےپرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں اور افغان پالیس کے خلاف ووٹ لیا تھا اور اب وہ پرویز مشرف کی بلواسطہ یا بلا واسطہ حمائت کر رہےہیں جو مینڈیٹ کی توھین نہیں تو اور کیا ہے؟‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں شامل ایک تنظیم تحریک اسلامی پاکستان کو حکومت نے کالعدم قرار دے دیا ہےاور اس کے سربراہ گرفتار ہیں۔ ایک تنظیم جمعیت علماۓ پاکستان (نورانی گروپ) کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی انتقال کر گئے ہیں اور تا حال انکی جگہ کسی دوسرے کو سربراہ نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ ساجد میر نے اختلاف کر دیاہے اس طرح عملی طور پر حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے اور معاملات طے کرنے والوں میں صرف دو بڑی جماعتیں ،جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی ہی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد