| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتاترک راستے ہی سے واپس ہوگیا؟
بالآخر جنرل پرویز مشرف اور دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کے درمیان حائل جھجھک اور ہچکچاہٹ کا پردہ ہٹ گیا۔ ایل ایف او پر سمجھوتا ہو چکا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟ کیونکر ہوا؟ وہ وعدے جو جنرل صاحب اور مجلس میں شامل سرکردہ علماء حضرات اپنے اپنے حمایتیوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں، وہ کیا ہوئے؟ ایک خیال ہے کہ ایل ایف او پر معاہدے کا اس وقت وقوع پذیر ہونے کا تعلق جلد ہی اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس سے ہے۔ یعنی اس معاہدے کے بعد جنوبی ایشیا کے رہنما ایک ایسی شخصیت کو اسلام آباد میں اپنا منتظر پائیں گے جس کے پیچھے نہ صرف اسکے ملک کی پارلیمان کی اکثریت ہے، بلکہ جو جمہوریت کے لیے ایک سیاستدان کی طرح ضروری سمجھوتے کرنے کے لیے بھی راضی ہے۔ شاید ان میں سے چند رہنماؤں کے لیے یہ بات بھی اہم ہو کہ اب جبکہ جنرل مشرف دائیں بازو کے سیاستدانوں سے ہاتھ ملا چکے ہیں انکے لیے عسکریت پسند گروپوں پر گرفت کرنا شاید آسان ہو گا۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کے اس وقت معاہدہ سے پاکستانی عوام کی سارک کانفرنس سے متعلق امیدیں یا خدشات بڑھ جائیں گے۔ کیا پاکستان کشمیر پر کوئی بڑا فیصلہ کرنے والا ہے؟ یہ سوال کچھ مدت سے ملک میں گردش کر رہا ہے۔ پچھلے دنوں ہونے والے چند واقعات اور اس دوران دیئے گئے انٹرویوز اور بیانات نے ان افواہوں کو مزید پختہ کیا ہے۔ خیال ہے کہ یہ افواہیں، یہ امیدیں یا خدشات اگلے چند روز میں مزید زور پکڑیں گی۔ خدشات کا ذکر کریں تو یہ ناممکن ہے کہ اس دور کو نظر انداز کر دیں جب جنرل مشرف کی حکومت اور متحدہ مجلسِ عمل میں شامل رہنما دونوں ایک دوسرے سے شاکی تھے۔ یہ بات ہمیشہ سے طے تھی کہ دونوں گروپ بادل ناخواستہ ہی جمہوریت کی طرفداری پہ مائل تھے، ورنہ جس قطعیت سے یہ دونوں گروپ اپنی رائے دوسروں پر تھوپنے کو اپنا حق سمجھتے آئے ہیں اس میں جمہور کی آواز کی گنجائش ذرا کم ہی رہ جاتی ہے۔ مگر یہں وہ لوگ بھی موجود ہیں جن کے خیال میں پاکستان کی کوئی بھی جماعت فوج کے ساتھ سمجھوتے میں عار محسوس نہیں کرتی۔ ان میں سے بعض ماضی میں یہ سمجھوتے کر چکی ہیں جبکہ کے بعض جماعتوں کے رہنما واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ انہیں فوج کے ساتھ شرکت اقتدار پر کوئی خاص اعتراض بھی نہیں ہے۔ عوامی سطح پر یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ بات یہ نہیں کہ کون فوج کے ساتھ سمجھوتے پر تیار ہے اور کون نہیں۔ بات یہ ہے کہ کون اس اتحاد کی کتنی قیمت مانگ رہا ہے اور آیا جنرل مشرف اور ان کے ساتھی یہ قیمت دینے پر تیار ہیں۔ بظاہر جنرل مشرف اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان یہ ’تاریخی معاہدہ‘ کوئی ایسا واقعہ نہیں جس کی عوامی سطح پر کچھ نہ کچھ پذیرائی نہ ہو۔ ایل ایف او پر طویل معرکہ آرائی کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ لوگ تھک گئے۔ ’چلو کچھ نہ کچھ تو ہوا‘ ایک ایسا جملہ ہے جس سے پاکستانیوں کی بہت اچھی طرح سے شناسائی ہے۔ پھر دوسرے نسبتاً زیادہ سیاسی تجزیے بھی ہیں۔ مثال کے طور پر بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دائیں بازو کا حکومت سے اتحاد جہادی سیاست کی شدت میں کمی لے آئے گا۔ دوسری طرف وہ تجزیہ نگار ہیں جو یہ کہتے آ رہے ہیں کہ مجلس کا فوج کو حکومت سے باہر جانے کا راستہ فراہم کرنا حقیقتاً جمہوریت کی ایک بڑی خدمت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ خصوصی طور پر پاکستان پر جہادی سیاست کے خاتمہ کے لئے بیرونی دباؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اتحاد کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ایک بہت اہم نکتہ جس کی جانب بارہا اشارہ کیا جا چکا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں ایک بار پھر وہ دور تو واپس نہیں آرہا جہاں ایک فوجی حکمران اپنی سیاسی مجبوریوں کے تحت دائیں بازو کو وہ تمام رعائتیں دینے پر آمادہ تھا جنہوں نے پاکستانی معاشرے پر دور رس اثر ڈالا۔ تو کیا وہ اتاترک جس کی آمد کا اعلان اکتوبر انیس سو ننانوے میں تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا تھا راستے ہی سے واپس ہوگیا؟ کیا وہ اتاترک ہماری جانب کبھی چلا بھی تھا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||