فوجی حکومت کو ’ڈھیل‘ ہے: بینظیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے اسلام آباد میں اپنی جماعت کے سینیئر رہنماؤں سے ملک کی سیاسی صورتحال کے بارے میں ٹیلی فون پر مشاورت کی ہے۔ صدر مشرف کی طرف سے اس بیان کے بعد کہ وہ انتہا پسندوں کو اقتدار میں نہیں آنےدیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ روشن خیال اعتدال پسند لوگ اقتدار میں آئیں، حکومت اور پیپلز پارٹی میں رابطے بڑھ گئے ہیں۔ اور حکومتی عہدیدار اس کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔ پیلپز پارٹی حکومت سے رابطوں کی تصدیق کرتی رہی ہے لیکن بینظر بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت سے تاحال کوئی ’ڈیل، نہیں ہوئی البتہ اسے ’ڈھیل، ہے۔ پیر اٹھائیس فروری کو ایک اخبار میں وزیراطلاعات شیخ رشید سے منسوب شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت بینظیر بھٹو سے آئندہ انتخابات کی تاریخوں کے تعین کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ لیکن بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آج شیخ رشید احمد نے کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ تاہم انہوں نے بینظیر بھٹو سے حکومتی رابطوں کی ایک بار پھر تصدیق کی ہے۔ پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آباد کے بند کمرے میں ہونے والی اس مشاورت کے بارے میں پارٹی کا کوئی بھی رہنما کھل کر بات کرنے یا تفصیلات بتانے کے لئے تیار نہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ آصف علی زرداری کی وطن واپسی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کا اسقتبال کرنے کی تیاریاں کرنے کے بعد تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ بینظیر بھٹو کی واپسی کے بارے میں انہوں نے اپنا پرانا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ’جب پارٹی معقول اور مناسب وقت کا تعین کرے گی اس وقت محترمہ واپس آئیں گی،۔ پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو ان دنوں خود ساختہ طور پر جلاوطن ہیں اور دبئی میں مقیم ہیں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی آٹھ برس مسلسل قید کاٹنے کے بعد حال میں رہا ئی کے بعد ان کے ہمراہ ہیں۔ بینظیر بھٹو امریکہ روانگی کی تیاری کر رہی ہیں جہاں امکان ہے کہ وہ امریکی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرنے والی ہیں۔ بینظیر بھٹو سے حکومتی رابطوں کی تصدیق تو پہلے ہی ہو چکی ہےلیکن بینظر بھٹو کہتی ہیں کہ حکومت سے تاحال کوئی ’ڈیل، نہیں ہوئی البتہ ’ڈھیل، ہے۔ کچھ سیاسی مبصرین بینظیر بھٹو کے حکومت سے ہونے والے رابطوں اور امریکہ روانگی سے قبل اچانک فون پر ہونے والی اس مشاورت کو ملک میں سیاسی تبدیلی کی طرف پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کی جانب سے مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت سینیئر وزیر امتیاز شیخ کی برطرفی کے بعد دونوں میں ایک دوسرے کے اوپر الزام تراشیوں کی وجہ سے حکمران مسلم لیگ میں بڑھنے والے خلفشار کو بھی حکومت اور بینظیر بھٹو میں ہونے والے رابطوں سے جوڑ کر سیاسی منظر کی تبدیلی کے دعوے کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||