مشرف ’ٹن پاٹ‘ ڈکٹیٹر ہیں: بے نظیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف کو ’ٹن پاٹ‘ ڈکٹیٹر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنے کی خاطر غیر ملکی طاقتوں کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کرائی جائیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کس طرح ایٹمی ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو منتقل ہوئی؟ بےنظیر بھٹو نے فوج کے جنرلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر ایک کا احتساب ہوتا ہے اور بعض کو تو انتقام کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے تو پھر ان افراد کا احتساب کیوں نہ ہو جنہوں نے ملک کو توڑ دیا، جو جنگیں ہارے، جنہوں نے کارگل کے معاملات طے کئے اور وہ جو اب جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنے ہیں۔ وہ جمعہ کی رات لندن میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں اور پارٹی رہنماؤں سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے اسے سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا کہ جوہری بلیک مارکیٹنگ میں صرف ڈاکٹر عبدالقدیر ہی ملوث ہیں۔ بےنظیر نے کہا کہ جب وہ اقتدار میں تھیں تو ڈاکٹر خان کے ساتھ ہمیشہ باوردی افسران متعین کئے گئے تھے جن کے بغیر ڈاکٹر قدیر کہیں نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حالت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈاکٹر قدیر لیبیا، شمالی کوریا یا کسی دوسرے ملک کو اپنے طور پر جا رہے تھے اور کسی کو خبر نہیں تھی۔ بےنظیر بھٹو نے کہا کہ مغربی ممالک نے جنرل پرویز مشرف کے اس جھوٹ کو تسلیم کر لیا ہے کہ جوہری پھیلاؤ کی وجہ ڈاکٹر قدیر خان تھے۔ لیکن مغربی ممالک نے یہ بات اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر تسلیم کی ہے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں جب بھی فوج اقتدار میں ہوتی ہے تو پاکستان پر مغرب کی جانب سے نوٹوں کی بارش ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ڈکٹیٹروں کو دہشت گردی، القاعدہ اور اسامہ بن لادن جیسے لوگ چاہئیں تاکہ وہ مغرب کو خوفزدہ کر کے اپنی آمریت قائم رکھ سکیں۔ بےنظیر نے کہا کہ اگر جنرل پرویز مشرف حقیقتاً دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف تھے تو پھر وہ ایم ایم اے کی حمایت حاصل کرنے کے لئے بھیک کیوں مانگتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف چاہتے تھے کہ سرحد میں ایم ایم اے کی طاقتور حکومت ہو تاکہ مغرب کو ڈرایا جا سکے۔ اگر جنرلوں کو ہٹایا گیا تو ملک پر شدت پسندوں کا غلبہ ہو جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس سنیچر کے روز بھی جاری رہے گا اور توقع ہے کہ اجلاس کے دوران بےنظیر بھٹو کے پاکستان جانے یا نہ جانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||