| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہمارے تجربے سے فائدہ اٹھائیں‘
پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو بھارت کے دورے پر جا رہی ہیں۔ یہ بھارت کا ان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ پہلے دورے کے موقع پر پاکستان کے فوجی حکمران اور دائیں بازو کے قدامت پسند تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں نے ان پر سخت تنقید کی تھی۔ مگر بے نظیر بھٹو کا تازہ ترین دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان میں بھارت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے اگلے ماہ اسلام آباد آ رہے ہیں۔ اس سے قبل بے نظیر بھٹو نے مطالبہ کیا تھا کہ بھارت کے وزیرِ اعظم کے پاکستان کے دورے سے پہلے انہیں اور نواز شریف کو بحفاظت پاکستان واپس دیا جائے۔ ابھی تک پاکستان کی دولتِ مشترکہ کی رکنیت کی بحالی نہیں کی گئی ہے۔ یورپی یونین نے بھی ابھی تک پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کو تسلیم نہیں کیا ہے اور صدر بش نے بھی اپنی دنیا بھی میں جمہوریت کی بحالی کی تقریر میں پاکستان کو جمہوری ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔ ان حالات میں اب جنرل مشرف پر بتدریج دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن سے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے تاثر کو تقویت ملے۔ دوسری طرف مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے پیچھے امریکہ، یورپ اور روس سمیت چین کا بھی کردار ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے اندر حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے کردار کو بھی جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لئے اہم اور ضروری سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان میں کسی بھی قومی اتفاقِ رائے کے بغیر پاک بھارت تعلقات کے سلسلے میں کوئی بڑا اقدام نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی پالیسی میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||