| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہمارے تجربے سے فائدہ اٹھائیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور ملک کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں ملک کی حقیقی سیاسی قیادت کو شامل کیا جانا چاہیے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صرف ایک فوجی حکمران سے مذاکرات کے بجائے اگر ملک کی حقیقی سیاسی قیادت کو بھی شامل کر لیا جائے توان مذاکرات کو زیادہ اہمیت حاصل ہوگی اور ملک کو بھی فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا وہ بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں اور سابق وزیر اعظم نوازشریف بھی واجپائی سے مذاکرات کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ان کے اس تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ (پاک۔ بھارت تعلقات) جلاوطن وزراء اعظم کا نہیں۔ یہ پاکستان کی قومی ترقی کی بات ہے۔‘ بھارت کے ساتھ تعلقات میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی کی طرف سے سیز فائر کے یک طرفہ اعلان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ کسی پالیسی کا نتیجہ ہے یا پھر بیرونی دباؤ کے تحت کیا جا رہا ہے۔ تاہم جنرل مشرف کی ’انتقامی سیاست ‘ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف بھارت کے وزیر اعظم کے ساتھ تو بات کر سکتے ہیں لیکن جو رویہ انہوں نے پاکستان کے دو سابق وزراء اعظم کے ساتھ روا رکھا ہے وہ کسی طرح ملک کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کیا جرم ہے کہ انہوں نے ملک کو بچایا۔ انہوں نے کہا کہ آج جناح پور کی سازش کرنے والے حکومت میں شامل ہیں اور وہ جنہوں نے ان مزموم سازشوں کا ناکام بنایا ملک سے باہر ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں بے نظیر بھٹو نے انکشاف کیا کہ حکام کے پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ رابطے نہیں ہیں مگر ہماری پارٹی کے دیگر لوگوں کے ساتھ رابطے ہیں۔‘ لیکن انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ حکومت اپنی انتقامی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے اور جب بھی کوئی بات ہو تو وہ (حکام) کہتے ہیں کہ ’جلا وطن واپس نہیں آسکتے۔‘ بے نظیر بھٹو نے کہا ہمارے ملک میں فی کس آمدنی دو ڈالر یومیہ سے بھی کم ہے۔ ہمارے سامنے اتنی مشکلات ہیں دہشت گردی کا مسئلہ ہے سرحدوں پر کشیدگی ہے ملک میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہمیں استحکام لانا ہوگا۔ استحکام پیدا کرنے کے لیے ہم منتخب رہنماؤں کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ جب حقیقی قائدین کو باہر رکھا جائے تو عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اس کی سزا چودہ کروڑ عوام کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔‘ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ملک کے سربراہ ہی فوج کے بھی سربراہ ہیں پارلیمان کے پاس کوئی اختیارات نہیں قانون سازی کے لیے بھی اور ایل ایف او کے سلسلے میں بھی پارلیمان کے ہاتھ پیر باندھ دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیز فائر کے بعد ایک امید پیدا ہوئی ہے مگر ساتھ ساتھ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں ملک میں اندرونی طور پر اتنے اختلافات ہیں کہ پاکستان کے اس عدم استحکام کا اثر پورے ملک پر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں سب سے پہلے ملک میں استحکام پیدا کرنا چاہیے تاکہ ملک میں جو غریب عوام ہیں جو سو روپے یا دو ڈالر میں اپنا گزارہ کررہے ہیں ان کو ترقی کرنے کے مزید مواقعے ملیں اور وہ آگے بڑھ سکیں۔ صدر مشرف اور وزیراعظم واجپئی کے درمیان کسی اتفاق رائے کے بعد سابق وزراء اعظم کی اہمیت یا ضرورت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہماری ضرورت ہے۔ امن کے لیے استحکام کے لیے۔ انتقامی سیاست اور انتقامی کارروائی بند ہونی چاہیے۔ پاکستان کے مفاد کو آگے رکھ کر ملک کے اندر مفاہمت اور مصالحت ہونی چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||