BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات دباؤ کا نتیجہ ہیں: بینظیربھٹو
بینظیر بھٹو

پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ مذاکرات کا سلسلہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہیں لیکن برِصغیر کے لیے امن اس قدر ضروری ہے کہ تمام شکوک شبہات کو ایک طرف رکھ کر اس عمل کو جاری رکھا جانا چاہیے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس عمل کو زیادہ پُر اعتماد اور مستحکم بنانے کے لیے پاکستان کے اندر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں سابق وزرائے اعظم کو واپس پاکستان بلا کر اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے بی بی سی ہندی سروس کے پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ کشیدگی کے وجہ سے دونوں ملک اکیسویں صدی کی ترقی میں پیجھے رہ جائیں گے۔

پاکستانی حکومت کے خلوص کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارتی وزیراعظم کی جانب سے کی جانے والی دو کوششوں کو ذرائع ابلاغ اور دانشوروں کے مطابق پاکستان کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے ماضی سے سبق سیکھا ہے اور امید ہے کہ اس بار کوششوں کے اچھے نتائج نکلیں گے۔

پاکستان میں جمہوریت کے غیر مستحکم ہونے کے بارے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ ایسا تاثر ہے کہ جیسے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کی وجہ سے ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہو گیا ہے جو فوج کا حامی ہے لیکن یہ وقتی ہے اور جہاں تک ان کا تعلق ہے وہ اسی وقت ہی امن کو مستحکم ہوتا ہوا دیکھتی ہیں جب پاکستان میں جمہوریت ہو گی اور وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا ہو گا۔

جنرل مشرف کی حالیہ کوششوں کی کامیابی کے بارے میں کیے جانے والے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کے ساتھ ساتھ دنیا میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی حمایت کی جاتی تھی لیکن دو ہزار ایک کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔اب خاص طور پر طاقت کے استعمال کے ساتھ وہ ہمدردی نہیں رہی جو پہلے ہوتی تھی تاہم کشمیر کے عوام سے سب کو ہمدردی ہے اور اس کے لیے کی جانے والی کوششوں کو کامیاب ہونا چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جنرل مشرف پر امن قائم کرنے کے لیے کون دباؤ ڈال رہا تو بینظیر بھٹو نے کہا کہ ساری دنیا دباؤ ڈال رہی ہے اور خاص طور پر واشنگٹن جو یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے اندر شدت پشند تنظیموں کو قابو میں کیا جائے۔

دبئی سے کیے جانے والے سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ امن کے حق میں ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی بھی حامی ہیں لیکن اسے پائیدار ہونا چاہیے اور اسے اجتماعی ہونا چاہیے نہ کہ انفرادی، کیونکہ انفرادی فیصلے پائیدار نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ برِصغیر کے عوام ایک بار اور دھوکہ نہیں کھانا چاہیں گے اس لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے پائیدار بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اپنے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کیے جانے والے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت نواز شریف اور وہ خود دونوں ہی سیاسی عمل سے باہر ہیں اور جب ملک میں حزب اختلاف کے دونوں اہم رہنما ملک سے باہر ہیں تو یہ کیسی جمہوریت ہے۔

انہوں نے کہا ’حال ہی میں جنرل مشرف نے اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی ووٹ صحیح طرح نہیں گنے گئے چاروں اسمبلیوں کے ووٹ برابر ہوتے ہیں لیکن انہیں اس طرح نہیں گنا گیا۔ تو ایک طاقتور فوجی سربراہ ایم ایم اے سے مفاہمت کے باوجود اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرسکا تو اسے کیا کہا جائے گا۔‘

بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سویلین اداروں کو صحیح طرح چلنے نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا صرف ان کی اور نواز شریف کی واپسی ہی حالات کو بہتر بنا سکتی ہے اور وہ اس کے لیے موقعہ کی تلاش میں ہیں اور جوں ہی انہیں یہ موقعہ ملے گا وہ ملک جائیں گی۔ اور انہیں امید ہے کہ انہیں یہ موقعہ جلد ملے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صورتِحال پیچیدہ ہے ایک طرف لوگ اپنے حقوق سے محروم ہیں تو دوسری طرف سیاسی رہنماؤں سے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور ملک پر حکمراں ڈکٹیٹر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بنا ہوا ہے۔ ’لیکن میں اور میاں نواز شریف واپس جائیں گے۔ ممکن ہے اکٹھے جائیں ممکن ہے الگ الگ جائیں لیکن میں واپس جانے کا منصوبہ بنا رہی ہوں۔‘

اسلام آباد سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ جنرل مشرف کے حامی سمجھتے ہیں کہ ان کی ساکھ ختم ہو چکی ہے اور یہ بھی کہ جنرل مشرف کو نوے فیصد عوام کی حمایت حاصل تاہم صورتِ حال مختلف ہے جنرل مشرف نے جو ریفرنڈم کرایا تھا اس پر یورپی یونین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششوں کو ناکام بنانے کا ذمہ دار کارگل کو قرار دیا جاتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ماضی میں فوجی حکومتیں امن اور مفاہمت کے راستے میں رکاوٹ بنتی رہی ہیں لیکن ایسی کیا بات ہوئے ہے کہ موجودہ فوجی حکومت جس طرح دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے اس طرح جمہوری حکومتوں نے بھی نہیں کی تھی، بینظیر بھٹو نے کہا کہ اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دونوں جنگیں فوجی حکومتوں کے زمانوں میں ہوئیں۔ اب سترہویں آئینی ترمیم منظور کرا لی گئی ہے اور مشرف صاحب نے دسمبر تک فوجی عہدہ چھوڑنے کا وعدہ کیا ہے تو امید ہے کہ دونوں سابق وزرائے اعظم کے ملک واپس جانے کا وقت جلد آ جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد