| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سارک اجلاس کے خلاف سازش ہے‘
شیخ رشید نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کا فوجی حکومت کے خلاف بیان سارک اجلاس کے خلاف سازش ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں حالات کو معمول پر لانے کی کوشش بے نظیر کو قابل قبول نہیں۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے بیان نے ہندوستان کے مذاکرات کے دوران صدر مشرف اور جمالی کی پوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’وہ نہیں چاہتیں کے بین الاقوامی سطح پر صدر مشرف کے قد میں اضافہ ہو۔ وہ چاہتی ہیں کہ مسائل بڑھیں اور ان کی پاکستان واپسی کی کوئی راہ کھلے۔‘ شیخ رشید نے الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت وقت آنے پر ہندوستان کا سہارا لیتی ہے۔ ’ان کے والد نے ہزار سال جنگ کرنے کا نعرہ لگا کر لیڈر بنے تھے جبکہ آج وہ امن پسند رہنما کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔‘ شیخ رشید نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے سیمینار میں شرکت کر کے متنازعہ تقریر سقوط ڈھاکہ کے دن کی ہے جس سے ان کی ذہن کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم واجپئی کے جنوبی ایشیا میں ایک کرنسی کے اجراء کے بارے میں بیان کو بھی بے وقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نے سرحدیں اتنی آسانی سے کھلتی ہیں اور نہ ہی جنوب ایشیا میں ایک کرنسی اتنی آسانی سے رائج کی جا سکتی ہے اور وہ بھی ایسی صورت میں جب یورپ بھی ایک کرنسی پر متفق نہیں ہو سکا۔ شیح رشید احمد نے کہا کہ یہ پاکستان کا ہی تدبر ہے کہ وہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کو پاکستان کی سرزمین پر کشمیر کی طرح کے حالات میسر ہوتے تو وہ کب وہاں اپنی فوجیں داخل کر چکا ہوتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||