BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 September, 2004, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیپلز پارٹی سے رابطے ہیں‘

News image
پیپلز پارٹی سے حکومت کے رابطے موجود ہیں۔شیخ رشید
وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور پیپلز پارٹی سے حکومت کے رابطے موجود ہیں۔

لاہور میں صحافیوں سے ملاقات میں وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ حکومت تمام معاملات پر حزب مخالف سے بات چیت کرنا چاہتی ہے جن میں وانا اور بلوچستان کے معاملات شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حزب مخالف چھپ چھپ کر حکومت سے ملاقاتوں کے بجائے دن کے اجالے میں آکر ملے کیونکہ سیاست میں ملاقاتیں کرنا اچھی بات ہوتی ہے۔

غلام مصطفے کھر کی اس تجویز کے جواب میں کہ صدر مشرف اپنی بخیریت واپسی کے لیے بے نطیر بھٹو اور نواز شریف سے بات چیت کریں تو وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر مشرف کو واپسی کے راستے کی ضرورت نہیں ہے البتہ جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ان سے بات ہورہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے بھی ہمارا رابطہ ہے اور وہ کسی بھی شکل میں ہو جاری رہے گا۔ ایک سوال کےجواب میں انھوں نے کہا کہ یہ رابطہ بے نظیر کے ملک میں موجود ترجمانوں کے ذریعے رہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو ملک واپس آنے سے کسی نے نہیں روکا اور وہ اپنی مرضی سے گئیں تھیں جبکہ نواز شریف اپنی خواہش کے مطابق باہر گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بے نظیر کے خلاف مقدمات ہیں اور جب تک ان کا فیصلہ نہیں ہوتا مقدمات زندہ رہتے ہیں۔

شیخ رشید احمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی سربراہ کا عہدہ اکتیس دسمبر کے بعد اپنے پاس رکھنے کے بارے میں اپنے بیان کو دہرایا کہ ان کو توقع ہے کہ صدر مشرف دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وردی اچکن کے اوپر ہو یا نیچے ایک ہی بات ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر مشرف نے جب اس سال اکتیس دسمبر تک وردی اتارنے کی بات کی تھی تو حالات مختلف تھے لیکن اب معاملات اور حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی قیادت ایسے مظبوط ہاتھوں میں ہو جس کا مغرب میں اچھا امیج ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سترھویں ترمیم کی بدولت ہی ہے کہ صدر مشرف دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں او سترھویں ترمیم مجلس عمل سے کیا ہوا وعدہ ہے اور وردی نہ اتارنے کا فیصلہ اسی کے مطابق کیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ہندوستان سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہندوستان نے کرنی ہے اور نیویارک میں صدر مشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ میں ملاقات ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر ایک مرکزی مسئلہ ہے تاہم پاکستان تمام مسائل پر ہندوستان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔

ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر در اندازی کے بیانات کے سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ کچھ عرصہ کے لیے ہندوستان کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ اور قومی سلامتی امور کے مشیر جے این ڈکشٹ کے بیانات کا نوٹس نہ لیا جائےکیونکہ مذاکرات ایسے مرحلہ میں داخل ہوگۓ ہیں۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان سنجیدگی اور اخلاص سے چاہتا ہے کہ ہندوستان سے خوشگوار ماحول میں معاملات طے ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وانا اور پشاور میں میڈیا سینٹر قائم کیے جارہے ہیں تاکہ صحافیوں کو وہاں کے حقائق سے آگاہ کیا جا ئےاور ان کو وانا کا دورہ کرایا جائے اور دہشت گردی کے تربیتی مراکز کی تصاویر دکھائی جائیں جن پر گزشتہ دنوں بمباری کی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد