BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 September, 2004, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے نظیر اور نواز کو واپس لاؤ: کھر

کھر آئندہ ہفتے ملک سے باہر جا رہے ہیں
کھر آئندہ ہفتے ملک سے باہر جا رہے ہیں
پنجاب کے سابق گورنر اور پیپلز پارٹی کے رہنما غلام مصطفے کھر نے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور صدر مشرف کی سلامتی کو درپیش خطرات کو ذکر کرتے ہوئے کہا ہے بحران کےحل کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کو ملک واپس لائیں اور منصفانہ عام انتخابات منعقد کرایں۔

گزشتہ سال نومبر میں بھی غلام مصطفے کھر نے سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پہلے اسی قسم کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ فوج اور سیاستدانوں کے درمیان دس سال کے لیے اقتدار میں شراکت کے لیے ایک مفاہمت ہونی چاہیے۔

لاہور میں جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام مصطفے کھر نے کہا کہ پاکستانی وفاق پر دباؤ ہے اور فوج کو سیاسی بنا دیا گیا ہے جبکہ عوام اور قوم کو سیاست سے دور کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کو سیاسی بنانے سے ایسے نتائج نکلیں گے جو ملک کو تباہی سے دوچار کردیں گے۔

صدر مشرف کی فوجی وردی پر جاری بحث پر بات کرتے ہوئے مصطفے کھر نے کہا کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوجی وردی اتارنے کے بعد صدر مشرف کہاں جائیں گے کیونکہ وہ عام آدمی کے طور پر زندگی نہیں گزارسکتے اور اس مرحلہ پر کیا مغربی ممالک ان کو اقتدار چھوڑنے کی اجازت دیں گے۔

غلام مصطفے کھر نے کہا کہ صدر جنرل مشرف کے پاس اب کوئی بیک ڈور نہیں بچا اور وہ سیاست کے ٹیسٹ میچ میں پھنس چکے ہیں۔ انہوں نے صدر مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ حقیقی سیاستدانوں سے اپنی سلامتی اور تحفظ پر بات کریں اور منصفانہ عام انتخابات کرائیں۔

کھر نے کہا بلاشبہ یورپ اور امریکہ میں تو صدر مشرف کی مقبولیت کا گراف بہت اوپر چلا گیا ہے لیکن ملک میں ان کی مقبولیت اتنی ہی کم ہوگئی ہے اور اب عوام میں ان کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں۔

مصطفے کھر نے کہا کہ عوام کو کھل کر بتایا جائے اور اس کو بحث میں شریک کیا جائے کہ کیا فوج ملک کو ایک پارٹی کے نظام حکومت اور صدارتی طرز حکمرانی کی طرف لے کر جارہی ہے کیونکہ بار بار وزیراعظم اور اسمبلیاں برخواست کرنے سے ملک کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔

مصطفے کھر نے کہا کہ اگر اسمبلی کو اقتدار منتقل بھی کردیا جائے تو کیا یہ ارکان اسمبلی ملک کی حفاظت کرسکتے ہیں اور فوج کے بغیر ملک میں امن و امان قائم رکھ سکتے ہیں اور اگر یہ ایسا نہیں کرسکتے تو ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس سے ملک کو جمہوریت بھی مل جائے اور اسے تباہی سے بھی دوچار نہ ہونا پڑے۔

مصطفے کھر کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف صرف فوج کے ادارہ کی وجہ سے کرسی پر بیٹھے ہیں اور کیا ان حالات میں فوج کو دباؤ میں لانا اور اسے عوام کے سامنے کھڑا کرنا جائز ہے کیونکہ جس طرح حالات چل رہے ہیں ملک بدامنی اور خون خرابہ کی اس سطح کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ملک کے اندر کی طاقتوں کے لیے اس خون خرابہ کو روکنا ممکن نہیں ہوگا اور طوفان فوج کے سر پر سے بھی گزر جائے گا۔

کھر نے کہا کہ اقتدار مشرف کے پاس ہے اور وہ ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بے نطیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک میں باعزت طریقہ سے واپس لایا جائے اور وہ بھی اس رویہ کے ساتھ ملک میں آئیں کہ ملک کی تعمیر نو کرنی ہے اور قومی مصالحت سے کرنی ہے۔

گزشتہ روز لاہور میں سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگلے سال نومبر میں عام انتخابات کرائے جائیں گے اور صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی اقتدار میں شریک کریں گے جس میں بے نطیر بھٹو کی پارٹی شامل ہوگی لیکن وہ خود شامل نہیں ہوں گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد