BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 June, 2004, 23:19 GMT 04:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی کے کارکن گرفتار

وزیرِ خزانہ شوکت عزیز
وزیرِ خزانہ شوکت عزیز پر پیپلز پارٹی کارکنوں کا دھاوا
مقامی پولیس نے پیپلز پارٹی کےتقریباً پندرہ رہنماؤں اُور کارکنوں کے خلاف وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت عزیز کی گاڑی کو روکنے اُور مظاہرہ کرنے پر نُقصِ امن کا مقدمہ درج کر تے ہوئے پارٹی کے چار کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے ۔

گرفتار ہونے والے کارکنوں کے نام ملک محمد اسد، ہاشم خان بابر، راؤ ساجد اور چودھری یاسین بتاۓ جاتے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ پولیس کے شعبہ سپیشل برانچ کی رپورٹ پر درج کیا گیا ہے ۔

وزیرِ خزانہ شوکت عزیز گزشتہ اتوار کسان کریڈٹ کارڈ کی تقریب ِ اجراء میں شرکت کے لیۓ ملتان آۓ تھے۔ کسان کریڈٹ کارڈ نجی شعبہ میں کام کرنے والے ایک کاروباری بینک نے پاکستان میں پہلی دفعہ متعارف کرایا ہے ۔

شوکت عزیز اور ان کا کارواں جب ملتان پریس کلب کے قریب سے گزر رہا تھا تو وہاں پر پہلے سے موجود پیپلز پارٹی اُور پاکستان سرائیکی پارٹی کے کارکُنوں نے وزیرِ خزانہ کی گاڑی کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی شروع کر دی ۔

+ پیپلز پارٹی کے کارکُن کراچی میں ہونے والے منّور سہروردی کے قتل کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے _

جبکہ سرائیکی پارٹی کے کارکُن وفاقی اُور صوبائی بجٹوں میں سرائیکی بولنے والے علاقوں کو نظر انداز کرنے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے ۔ چند جذباتی کارکنُوں نے وزیرِ خزانہ کی گاڑی پر مُکے بھی مارے _ تاہم بعد میں دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکُن پُر امن طور پر مُنتشر ہوگۓ _

کسان کارڈ کی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شوکت عزیز نے واقعہ کو معمولی قرار دیتے ہوۓ کہا تھا کہ وہ لوگوں کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہیں ۔ تاہم واقعہ کے دو روز بعد ملتان کینٹ پولیس نے پندرہ افراد کے خلاف 16 ایم پی او اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔

جِن لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ان میں سابق وفاقی وزیر مختار اعوان اور پنجاب بار کونسل کے سنئیر رکن حبیب اللہ شاکر بھی شامِل ہیں ۔

ملتان کے ضلعی پولیس افسر حامد مختار گوندل کا کہنا تھا کہ ہنگامہ صِرف پیپلز پارٹی کے کارکنُوں نے کیا اِس لیۓ سرائیکی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ۔

پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے مقدمہ اور گرفتاریوں کو انتقامی کاروائی قرار دیا ہے ۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد