پاکستانی بلدیاتی نظام کی تعریف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارت کے بلدیاتی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے صدر پرویز مشرف کے تیار کردہ مقامی حکومتوں کے نظام کی تعریف کی ہے خصوصا اس میں پولیس کو بلدیاتی اداروں کے ماتحت بنانے کے قانون کی۔ بھارت کی اٹھارہ ریاستوں میں بلدیاتی اداروں سے تعلق رکھنے والا ایک تینتیس افراد پر مشتمل ایک وفد آج کل پاکستان کے دورے پر ہے۔ یہ وفد پاکستان میں چار سال پہلے متعارف کرائے گئے بلدیاتی نطام کا مطالعہ کرنے کے مقصد سے پندرہ روز دورے پر ہے۔ اس وفد کی قیادت دلی میں انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز ایش نرائین رائے کر رہے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے گیسٹ آور پروگرام میں بات کرتے ہوئے ایش نرائین نے یہاں متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام کے بارے میں کہا کہ یہ اب جڑیں پکڑ رہا ہے اور آگے چل کر اس کے مضبوط ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے خصوصاً پاکستان میں پولیس کو بھی مقامی حکومتوں کے تحت لانے کی تعریف کی اور کہا کہ بھارت کو بھی یہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوریت کے مظبوط ہونے کی وجہ وہاں کا مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مرکزی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر بھارت میں بھی اختیارات کے استعمال پر صورتحال کشیدہ ہے لیکن انہوں نے اس تناؤ کو مثبت قرار دیا۔ بھارت میں پاکستان کی نسبت بلدیاتی ادارے کافی مستحکم ہیں۔ بھارتی وفد کے مطابق ان کا یہ دورہ انتہائی مفید ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||