 |  القاعدہ مبینہ طور پر صدر مشرف پر کئی ناکام قاتلانہ حملے کر چکی ہے |
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کی افواج نے پاکستان میں القاعدہ کی کمر توڑ دی ہے اور انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آسڑیلیا کے تین روزہ دورے کے اختتام پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں القاعدہ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔ ایک روز قبل ہی پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں طالبان کے ایک رہنما ملا اختر عثمانی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسامہ بن لادن اور طالبان کے رہنما ملا محمد عمر زندہ ہیں اور خیر خیریت سے ہیں۔ تاہم ملا اختر عثمانی کے دعوے کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنرل مشرف نے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے القاعدہ کا پیچھا کرتے ہوئے شہروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ پہاڑوں پر چھپنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور پاکستان فورسز نے ان کی کمیں گاہوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ صدر مشرف نے بزنس مینوں کے ایک اجتماع سے کہا کہ ’دہشت گردی کو قوت ہی سے نبٹا جا سکتا ہے اور ہم وہی کر رہے ہیں اور ہم اس میں کسی حدتک کامیابی بھی ہوئی ہے۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ القاعدہ کے رابطوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور القاعدہ کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں صف اول کا ملک ہے جہاں فوج القاعدہ کے مشتبہ ارکان کی تلاش کا کام کر رہی ہے جو ملک کے شمال میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں چھپے ہوئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس علاقے میں کہیں روپوش ہے اور مشرف نے کینبرا میں اخبارنویسوں کو بتایا تھا کہ اسامہ بن لادن کے زندہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ |