BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 00:20 GMT 05:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں شدت پسند کہاں گئے؟

بس سروس کے موقعہ پر مظفرآباد میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا
بس سروس کے موقعہ پر مظفرآباد میں زبردست جوش وخروش پایا جاتا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے تاریخی بس کی مظفرآباد روانگی سے ایک دن قبل ہونے والے حملے نے دونوں اطراف کے کشمیر میں پائے جانے والے سیاسی ماحول کے فرق کو واضح کر دیا ہے۔

سرینگر سے چلنے والی اس بس سروس کے شروع کیے جانے پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم چار غیر معروف علیحدگی پسند تنظیموں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس بس کو تابوت بنا دیں گے۔ انہوں نے مسافروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس بس پر سفر نہ کریں۔

لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مکمل خاموشی طاری ہے اور شدت پسند جو کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کی پرزور طریقے سے مخالفت کر رہے تھے اب بالکل خاموش ہیں۔

پاکستان میں موجود شدت پسندوں گروپوں کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ٹھیک کرنے کی تمام کوششیں جن کا محور مسئلہ کشمیر نہیں ہوگا کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیں گی۔

پاکستان کی سرکردہ مذہبی جماعتوں کی طرف سے بھی اس بس سروس کی کھل کر مخالفت نہیں کی جارہی ہے۔ یہ مذہبی جماعتیں بس سروس کے بارے میں کہتی ہیں کہ کشمیر میں بس چلانا ایسا ہی ہے جیسے کسی بیمار بچے کو کھلونے سے بہلانے کی کوشش کی جائے۔ وہ اس بس سروس کو امریکہ کے دباؤ پر کی جانے والی ایک سیاسی شعبدہ بازی قرار دے رہے ہیں۔

لیکن اس بس سروس کے خلاف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سمیت پاکستان کے کسی حصہ میں کوئی احتجاج اور مظاہرہ نہیں کیا گیا اور مظفرآباد میں تقریباً ساٹھ سال بعد سرینگر کے لیے چلنے والی اس بس کی روانگی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

پاکستان میں پائی جانے والی یہ خاموشی گیارہ سمتبر کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے پرآشوب دور کے بالکل برعکسں ہے۔ کشمیر میں شدت پسندوں نے ان حملوں کے بعد اپنی کارروائیاں اس کوشش میں تیز کر دیں کہ وہ دنیا کو بتاسکیں کہ ان کی جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ نہ ملایا جائے۔

اس پس منظر میں بس سروس کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچنے والے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ سارے شدت پسند کیا ہوئے۔

اس سوال کا جواب شاید جنرل مشرف اور مذہبی جماعتوں میں بڑہتی ہوئی سیاسی کشمکش میں پنہاں ہو۔ جنرل مشرف نے سن دو ہزار تین میں پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی مدد سے صدرات کے عہدے کے لیے پارلیمان سےاعتماد کو ووٹ حاصل کیا تھا۔

متحدہ مجلس عمل گزشتہ عام انتخابات میں نہ صرف قومی اسمبلی میں قابل ذکر تعداد میں سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی بالکہ دو صوبوں میں اس نے حکومتیں بھی قائم کی تھیں۔

لیکن جب صدر جنرل مشرف نے امریکہ کے کہنے پر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تو جنرل مشرف اور مذہبی جماعتوں کے درمیان کشمکش میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان کے سیکیورٹی حکام کے مطابق دسمبر دو ہزار تین میں صدر مشرف پر ہونے والے خودکش حملوں سے دہشت گردی کے خلاف ہونے والی کارروائی صدر مشرف اور شدت پسندوں کے درمیان ذاتی لڑائی کی صورت اختیار کر گئی۔

پاکستانی خفیہ اداروں کی تفتیش کے مطابق صدر پر حملہ کرنے والوں کے تانے بانے کشمیر میں سرگرم شدت پسندوں گروپوں سے ملتے تھے۔

حکام کے مطابق کشمیری شدت پسندوں اور پاکستان خفیہ اداروں کے درمیان جو بھی تعلقات یا روابط تھے وہ مکمل طور پر ختم ہو گئے۔

پاکستان کے خفیہ اداروں نے ان حملوں کے بعد مذہبی انتہا پسندوں اور ان کے حامیوں کو تین درجوں میں تقسیم کر دیا۔ پہلے درجہ میں وہ شدت پسند تھے جن کو تمام تر طاقت اور وسائل استعمال کرکے ختم کیا جانا ناگزیر ہو گیا تھا۔ دوسرے درجہ میں وہ لوگ آتے تھے جن کو مسلح جدوجہد پر نظر ثانی کرنے پر تیار کیا جاسکتا تھا اور کشیمر میں برسرِپیکار شدت پسند تنظیموں کی نمائندہ متحدہ جہاد کونسل کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا۔

پاکستان کی مذہبی جماعتیں تیسرے درجہ میں آتی تھیں جن کی شور مچانے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں تھی۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پورے اعتماد سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان تمام گروپوں کو صورت حال کا پورا ادراک ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح شواہد ہیں کہ صورت حال کی نزاکت کو پورے طور پر سمجھتے ہیں۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین جن تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آسانی سے رسائی حاصل ہو جاتی تھی، پردے سے غائب ہو گئے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتیں جن کے لیے مسئلہ کشمیر ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے اب دوسرے مسائل پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔ کشمیر بس سروس کے خلاف آواز اٹھانے یا احتجاج کرنے سے زیادہ وہ خواتین کی دوڑ رکوانے میں سنجیدہ نظر آتی ہیں۔

کشمیر میں لڑنے والے شدت پسند بھی جو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے آنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے اب کہیں نظر نہیں آتے۔

ان دونوں مظفرآباد میں بس سروس کے شروع ہونے کے جوش وخروش کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد