مشتبہ القاعدہ ارکان کی ملک بدری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے آج القاعدہ اور طالبان کے ساتھ روابط کے شبے میں گرفتار چار غیرملکی باشندوں کو ملک بدر کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ رہائی پانے والے مارک مورگن اور اوکلے سٹینلے کا تعلق نائجیریا سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے صحافی بتائے جا تے ہیں۔ جبکہ عبدالکریم ولد محمد بن علی مراکش سے تعلق رکھنے والے اور سوڈان کے ابو النصر بھی شامل ہیں۔ ان کی رہائی کے احکامات پشاور کی ایک عدالت نے کچھ عرصے قبل جاری کیے تھے۔ سابق رکن قومی اسمبلی جاوید ابراہیم پراچہ کو ان غیرملکیوں کو ان کے ملک واپس پہنچانے کے انتظامات کی ذمہ داری سونپی گئ ہے۔ ابراہیم پراچہ اب تک کافی غیرملکیوں کو ان کے وطن روانہ کرنے کے انتظامات کر چکے ہیں۔ ان چاروں کی رہائی کے لیے بھی ابراہیم پراچہ نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان چار غیرملکیوں کو” فارن ایکٹ چودہ” کے تحت بغیر دستاویزات کے پاکستان میں غیر قانونی قیام پر تقریبًا ڈیڑھ دو سال پہلے گرفتار کیا تھا۔ جاوید ابراہیم پراچہ کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی اڈیالہ جیل میں غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جن میں دو سو عرب ’مجاہد’، تقریباً بارہ سو کاتعلق وزیرستان اور تقریباً دو سو گوانتناموبے، کیوبا کے رہنے والے ہیں۔ جاوید ابراہیم پراچہ عدالت سے ان کی رہائی کے لیے سے مذاکرات کر رہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||